Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 110
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ
فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ : پس تم نے انہیں بنا لیا سِخْرِيًّا : ٹھٹھا : یہاں تک کہ اَنْسَوْكُمْ : انہوں نے بھلا دیا تمہیں ذِكْرِيْ : میری یاد وَكُنْتُمْ : اور تم تھے مِّنْهُمْ : ان سے تَضْحَكُوْنَ : ہنسی کیا کرتے تھے
تو تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ان سے تمہارے اس مذاق نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی تھی اور تم ان سے ہنسی ہی کرتے رہے
123 اللہ کے نیک بندوں کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو دوزخیوں کی تذلیل مزید کے لیے اور ان کی محرومی کے ایک اہم اور بنیادی سبب کو واضح کرتے ہوئے ان سے مزید کہا جائے گا کہ تم وہی تو ہو جو میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ َان دیکھی آخرت اور خیالی جنت و دوزخ کے اعتقاد سے خواہ مخواہ دنیا کی ان لذتوں اور عیاشیوں سے محروم ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح یہ جواب اس خدائے غیور۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی اس عبرت کا مظہر ہوگا جس کا اظہار وہ اپنے نیک بندوں کیلئے فرمائے گا۔ اور اس کی بناء پر وہ ان اتقیاء کو دھکتار کر ان سے فرمائے گا کہ تم مجھ سے بات مت کرو اور میرے سامنے زبان مت کھولو کہ تم وہی شقی اور بدبخت لوگ ہو جو میرے نیک بندوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے جبکہ وہ مجھ سے میری بخشش اور رحمت کا سوال کیا کرتے تھے۔ اور ان بندگان صدق و صفا سے مذاق اڑانے کے اس شغل میں تم لوگ اس قدر محو و منہمک ہوگئے تھے کہ میری یاد اور میری گرفت و پکڑ کے خیال سے بھی تم لوگ محروم ہوگئے تھے اور تمہیں اس کا بھی کوئی خیال و احساس نہیں رہا تھا کہ تمہیں مجھ سے بھی کبھی سابقہ پڑنا ہے اور میرے یہاں بھی کبھی پیش ہونا ہے۔ سو اب اپنے اس کیے کرائے کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو ۔ والعیاذ باللہ -
Top