Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 111
اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
اِنِّىْ : بیشک میں جَزَيْتُهُمُ : میں نے جزا دی انہیں الْيَوْمَ : آج بِمَا : اس کے بدلے صَبَرُوْٓا : انہوں نے صبر کیا اَنَّهُمْ : بیشک وہ هُمُ : وہی الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
مگر انہوں نے صبر و استقامات کا دامن نہ چھوڑا، جس پر آج میں نے ان کو ان کے صبر کا پھل دیا کہ وہی ہیں کامیاب اور فائز المرام1
124 صبر کا پھل نہایت عمدہ اور بےمثال : سو ان بدبختوں سے اس موقع پر کہا جائے گا کہ تمہاری طرف سے تمام تر ظلم و ستم اور مذاق و استہزاء کے باوجود وہ سچے ایماندار راہ ِحق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رہے۔ سو آج میں نے ان کو ان کے اس صبر و استقامت کا یہ صلہ دیا کہ وہی ہیں حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے۔ اور اس کے مقابلے میں تم جو دنیا میں اپنی عقل مندی اور چالاکی کے زعم میں ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے آج ناکام و نامراد ہو۔ سو اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا و خوشنودی کا صلہ و بدلہ دائمی کامیابی کا بےمثال پھل اور ایسوں کا مذاق اڑانا ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top