Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
ارشاد ہوگا کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا میں تم لوگ واقعی بہت ہی کم ٹھہرے ہو کاش کہ تم لوگ یہ حقیقت اس وقت جان لیتے
128 دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر : سو ان کو جواب ملے گا واقعی تم لوگ دنیا میں بہت ٹھہرے تھے کہ دنیا کی زندگی بہرحال فانی اور محدود تھی جو کہ گزر چکی۔ جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور لامحدود ہے۔ اور محدود کی لامحدود کے مقابلے میں بہرحال کوئی نسبت ہی نہیں۔ مگر دنیا کے اس دارالامتحان میں جہاں کہ اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے ان غفلت شعاروں کو نہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی یہ اس کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل چیز مادہ و معدہ کے تقاضوں کی تکمیل ہی ہے اور بس۔ اور اسی کو یہ لوگ مقصد حیات بنائے ہوئے اور خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ اگر وہ دنیا میں آنکھیں کھول لیتے اور غور و فکر سے کام لیتے تو حقیقت حال ان کے سامنے واضح ہوجاتی اور یہ دھوکے میں نہ پڑتے۔ اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو دنیا کے عارضی فوائد اور مادی منافع کی تحصیل میں ضائع نہ کرتے بلکہ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی آبادی اور وہاں کی کامیابی کے لیے کوشش کرتے۔ اور اسی کی کامیابی اور فائز المرامی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بناتے۔ سو عقیدئہ آخرت ایک انقلاب آفریں اور سعادت دارین سے سرفرازی کا کفیل وضامن عقیدہ ہے ۔ اللہم فزدنا ایمانا بالآخرۃ و یقینا بہا واستعدادا لہا یا ذا الجلال والاکرام بیدک الخیر وانت علی کل شی قدیر ۔ ـ 129 علم حق کی روشنی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کاش کہ تم لوگ جان لیتے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو جبکہ تم دنیا کے دارالامتحان میں تھے اور تمہارے لئے کسب و عمل کا موقع موجود تھا۔ اگر ایسے ہوتا تو تم لوگ کبھی دنیا کی فانی زندگی اور وہاں کے وقتی اور عارضی فائدوں کو سمیٹنے کو ترجیح نہ دیتے اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی سے منہ موڑ کر اس دائمی خسارہ سے دوچار نہ ہوتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا کہ علم حق کی روشنی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی روشنی ہے کہ اسی سے انسان کو حق اور حقیقت کی صحیح راہ کی معرفت اور پہچان نصیب ہوتی ہے۔ اور اسی سے وہ حق اور حقیقت کو اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ حضرت ایفع بن عبد الکلاعی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب کر کے ان سے فرمائے کا کہ تم لوگ دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو ؟ تو وہ عرض کریں گے کہ ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے اس میں بڑی اچھی کمائی اور عمدہ تجارت کی کہ میری رضا اور جنت کے مستحق بن گئے۔ سو اب تم ہمیشہ اسی میں رہو ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ اور پھر دوزخیوں سے یہی سوال کرے گا کہ تم لوگ دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو ؟ تو وہ کہیں گے ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم لوگوں نے اس میں بڑی بری کمائی کی کہ میری ناراضگی اور دوزخ کے مستحق ٹھہرے۔ پس تم ہمیشہ اسی میں رہو۔ (ابن کثیر اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ -
Top