Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 28
فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب اسْتَوَيْتَ : تم بیٹھ جاؤ اَنْتَ : تم وَمَنْ : اور جو مَّعَكَ : تیرے ساتھ (ساتھی) عَلَي : پر الْفُلْكِ : کشتی فَقُلِ : تو کہنا الْحَمْدُ : تمام تعریفیں لِلّٰهِ : اللہ کے لیے الَّذِيْ : وہ جس نے نَجّٰىنَا : ہمیں نجات دی مِنَ : سے الْقَوْمِ : قوم الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
پھر جب کشتی میں بیٹھ جاؤ تم بھی اور وہ سب بھی جو عقیدہ و ایمان کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہیں تو یوں کہو کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ان ظالم لوگوں سے
38 نعمت سے سرفرازی پر شکر خداوندی کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ کشتی میں بیٹھ جائیں آپ بھی اور آپ کے ساتھی بھی تو یوں کہو تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے ہمیں نجات دی ظالم لوگوں سے "۔ کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا ہر کسی کا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل اور حضرت نوح جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی اسی وحدہ لا شریک کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو کس قدر بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اللہ کی مخلوق میں سے طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں اور مخلوق و عاجز ہستیوں کو مشکل کشا اور حاجت روا قرار دے کر انکو پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ شرک کا ارتکاب کرکے اپنے لیے کس قدر بڑے خسارے اور نقصان کا سودا کررہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشکل کشا اور حاجت روا سب کا یہاں تک کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا باقی جو بھی سہارے لوگوں نے از خود اور طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے ہیں وہ سب بےبنیاد اور اوہام و خرافات ہیں جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Top