Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 3
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو هُمْ : وہ عَنِ اللَّغْوِ : لغو (بیہودی باتوں) سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے
جو دور و نفور رہتے ہیں لغو اور بےکار باتوں سے۔3
3 ایمان ایمان کی دوسری خاص صفت : ۔ لغو باتوں سے احتراز و اجتناب : سو ان کی دوسری خاص صفت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دور رہتے ہیں لغو باتوں سے : سو لغو باتوں سے احتراز ان لوگوں کی ایک اور خاص صفت ہے۔ یعنی یہ بچتے ہیں ہر اس قول و فعل سے جو کہ بےمقصد ہو۔ جس میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہو نہ دنیا کا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ نیز لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو انسانی زندگی کے اصل مقصد یعنی رضائے الہی کے حصول سے غافل کرنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ سو جس نماز کے اندر خشوع و خضوع پایا جائے گا اس کا انسانی زندگی پر یہ اثر پڑتا ہے کہ انسان فضول، لایعنی، بےمقصد چیزوں سے احتراز کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ ایسا انسان ایک بامقصد اور ذمہ دار انسان بن جاتا ہے اور وہ لغو اور بےکار و بےمقصد باتوں سے دور اور نفور رہتا ہے۔
Top