Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 69
اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘
اَمْ : یا لَمْ يَعْرِفُوْا : انہوں نے نہیں پہچانا رَسُوْلَهُمْ : اپنے رسول فَهُمْ : تو وہ لَهٗ : اس کے مُنْكِرُوْنَ : منکر ہیں
یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو انجان ہونے کی وجہ سے یہ اس کے منکر ہو رہے ہیں ؟
86 کیا ان لوگوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں ؟۔ سو یہ بات بھی نہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے حسب و نسب اور آپ ﷺ کی صداقت و امانت سے پوری طرح واقف و آگاہ تھے اور ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کا یہ انکار اور یہ مخالفت دراصل حسد کی اس آگ کی بناء پر ہے جس میں یہ لوگ جل رہے ہیں۔ اور اتباع ہویٰ کے اس سنگین روگ کے باعث ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ اور حسد اور اتباع ہویٰ کے یہ دونوں روگ ایسے سنگین اور ہولناک روگ ہیں جو انسان کو حق کے نور اور ہدایت کی دولت سے محروم کردیتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کیلئے یہ بات واضح رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی آگہی اور ان پر اتمام حجت کیلئے اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ مرحلہ اس قوم کیلئے بڑا اہم اور نہایت ہی نازک ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے بعثت رسول کی اس عظمت کو پہچانا اور وہ صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ انکو اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے اور ان کو تمکین فی الارض کے شرف سے مشرف فرماتا ہے۔ اور اگر اس کے برعکس ان لوگوں نے کفر و انکار کا مظاہرہ کیا اور اس انتہائی نازک اور حساس معاملے میں لاپرواہی برتی اور لا ابالی پن سے کام لیا تو انکو فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ سو اس قدیمی سنت الہی کی بناء پر نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے قریش کے لوگ بالخصوص اور دوسری قومیں بالعموم بڑے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر آئیں۔ اگر یہ ایمان لائے تو عزت پاگئے ورنہ مارے گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں قریش کے لیے ان کی ناعاقبت اندیشی پر تنبیہ ہے کہ یہ ہوش کے ناخن لیں۔ اور اپنے رویے کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مبتلائے عذاب ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top