Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 70
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ
اَمْ : یا يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں بِهٖ : اس کو جِنَّةٌ : دیوانگی بَلْ : بلکہ جَآءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس بِالْحَقِّ : ساتح حق بات وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر لِلْحَقِّ : حق سے كٰرِهُوْنَ : نفر رکھنے والے
کیا یہ لوگ اتنی ظالمانہ اور احمقانہ بات کہتے ہیں کہ اس شخص کو جنون ہوگیا ہے ؟ نہیں ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ رسول ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں کی اکثریت کو حق کا نور ہی ناگوار ہے
87 لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے۔ کیونکہ حق کی پیروی سے ان کی نفس پرستی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے راستے بند ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے اندر کا زیغ و ضلال ان کے لئے حق پرستی سے مانع ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک بڑے اہم اور خطیر مرض کی تشخیص اور نشاندہی فرما دی گئی ہے جو کہ افراد کے اندر بھی رہا اوراقوام و ملل کے اندر بھی۔ جو کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بلکہ آج تو وہ پورے عروج پر ہے۔ اور وہ مرض خطیر ہے اتباع ھویٰ کا مرض۔ جسکے بعد اس مرض میں مبتلاء انسان کو حق کا سننا اور قبول کرنا گوارہ نہیں ہوتا اور اس کے لئے سب سے زیادہ گراں شے اور ناگوار چیز نور حق و ہدایت ہی ہوتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور آج یورپ و امریکہ وغیرہ تمام مشرق و مغرب کے مادہ پرست معاشرے کی اصل اساس و بنیاد یہی اتباع ھویٰ ہے۔ جسکو ان لوگوں نے اساس و بنیاد کے طور پر طے اور تسلیم کر رکھا ہے کہ ہر کوئی اپنی خواہش کی تکمیل جیسے اور جس طرح چاہے کرے۔ اس کو اس سے کوئی نہیں روک سکتا سوائے اس کے کہ اس کی خواہش دوسرے کی خواہش پرستی میں حارج اور رکاوٹ بنے۔ اور اس طرح یہ لوگ اتباع ھویٰ کے ہولناک گڑھے میں گر کر خالص حیوان بن کر رہ گئے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئے ہیں اور۔ { اُوْلٓئکَ کَالْاَنْعَام بَل ھُمْ اَضَلّ } ۔ کے کھلے اور صریح مصداق بن گئے ہیں جو کہ سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ہے۔ آخر انسان اگر انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر گدھے، بیل اور کتے، خنریز وغیرہ کی سطح پر آجائے بلکہ اس سے بھی نیچے پہنچ کر وہ اسفل السافلین بن جائے تو اس سے بڑھ کر ہولناک خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ الّذِی لَا اِلٰہ اِلَا ھُوَ وَلَا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہ ۔ اور مزید یہ کہ ان کو اپنے اس خسارے کا احساس بھی نہ ہو۔
Top