Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 71
وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ
وَلَوِ : اور اگر اتَّبَعَ : پیروی کرتا الْحَقُّ : حق (اللہ) اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات لَفَسَدَتِ : البتہ درہم برہم ہوجاتا السَّمٰوٰتُ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضُ : اور زمین وَمَنْ : اور جو فِيْهِنَّ : ان کے درمیان بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِذِكْرِهِمْ : ان کی نصیحت فَهُمْ : پھر وہ عَنْ ذِكْرِهِمْ : اپنی نصیحت سے مُّعْرِضُوْنَ : روگردانی کرنے والے ہیں
اور اگر بفرض محال کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا تو کبھی کے تباہ و برباد ہوچکے ہوتے یہ آسمان اور زمین اور وہ سب مخلوق جو کہ ان کے اندر موجود ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ان کا ذکر لائے ہیں، مگر یہ ایسے بدبخت اور بےانصاف ہیں کہ اپنے ذکر ہی سے منہ موڑے ہوئے ہیں،
88 کائنات کا وجود حق کا مرہون منت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض کہیں حق ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا تو آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی یہ ساری کائنات کبھی کی تباہ و برباد ہوگئی ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کچھ حق کے وجود ہی سے قائم اور اسی سے وابستہ ہے۔ اور اگر بفرض محال حق خود ان کی خواہشات کا تابع ہوجائے تو پھر ان کے بچنے کا کیا سوال۔ سو اس میں عقل و فکر رکھنے والوں کے لئے زبردست دعوت اور زور دار تلقین ہے۔ اس امر کی کہ وہ خواہشات نفس کے پیچھے چلنے کی بجائے صدق دل سے حق و ہدایت کی پیروی کریں۔ اور یہ توقع نہ رکھیں کہ حق ان کی خواہشات کی پیروی کریگا۔ کیونکہ ایسا بالفرض اگر ہوجائے تو آسمان و زمین کا سارا نظام حق پر قائم ہے۔ جبکہ تمہاری زندگی کا سارا معاملہ خواہشات نفس کی تکمیل پر مبنی ہے۔ اور خواہشات نفس اور حق کے درمیان تو بعد المشرقین ہے۔ اب اگر بالفرض حق ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو خیر کی جگہ شر، عدل و انصاف کی جگہ ظلم و زیادتی، نیکی کی جگہ بدی اور امانت کی جگہ خیانت و بددیانتی کا دور دورہ ہوجائے اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ ایمان و توحید کی جگہ کفر و شرک اور قیامت و آخرت کے عقیدئہ و یقین اور اس کے لیے تیاری کی بجائے انکار آخرت اور غفلت و لاپرواہی کا دور دورہ ہوجائے کہ اکثریت اور میجورٹی تو ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ سو اگر ان عظیم الشان حقائق کی بجائے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی جانے لگے تو دنیا کی تمام اخلاقی قدریں اور ان پر مبنی مستحکم نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ اور اگر اس کے اندر شرک کے وجود کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ساری بنیاد ہی ختم ہوجائے کیونکہ شرک کے ساتھ اس کائنات کا نظام ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ آگے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 91 میں واضح فرمایا گیا ہے ۔ سو اصل چیز حق اور اس کی پیروی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 89 ذکر و تذکیر خداوندی سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم تو ان کے پاس ان کے ذکر لائے اور ان کی تذکیر و یاددہانی کا سامان کیا لیکن یہ اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ یعنی قران حکیم جو کہ ایک ایسی کامل اور بےمثال نصیحت ہے جس میں کسی نقص و کمی کا کوئی سوال و احتمال نہیں اور جس کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں اور جس کو اپنانے میں ان کی اپنی عظمت و ناموری بھی ہے اور حقیقی عزت اور رفعت بھی۔ سو یہ ان کے حصے کی تذکیر و یاددہانی ہے جو ہم ان کیلئے لائے ہیں۔ اور اس سے ان پر اتمام حجت کردی گئی۔ اب اگر یہ اس کی قدر کریں گے اور صدق دل سے اس پر ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کریں گے تو یہ خود ان کیلئے بہتر ہوگا۔ دنیاوی زندگی کی اس عارضی اور محدود فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ ورنہ یہ بھی اپنے اس ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں جو اس کے پہلے کے منکروں کو پیش آچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 90 ہٹ دھرمی کا نتیجہ اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم تو ان کے پاس ان کے حصے کی تذکیر و یاددہانی لائے تاکہ ان کے لیے سعادت دارین کا سامان ہو سکے۔ مگر یہ لوگ اپنے اس ذکر ہی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح دنیا و آخرت کی خیرات و برکات کے اس منبع ومصدر سے منہ موڑ کر یہ لوگ شقاوت و بدبختی اور حرمان نصیبی کی راہ پر چل رہے ہیں جو کہ نتیجہ ہے ان کی ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو خداوند قدوس کے اتارے ہوئے ذکر اور اس کی ارشاد فرمودہ تذکیر و یاددہانی سے اعراض برتنا اور اس سے منہ موڑنا بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Top