Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 79
وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
وَهُوَ : اور وہ الَّذِيْ : وہی جس نے ذَرَاَكُمْ : پھیلایا تمہیں فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِلَيْهِ : اور اس کی طرف تُحْشَرُوْنَ : تم جمع ہو کر جاؤ گے
اور وہ وحدہ لاشریک وہی تو ہے جس نے پھیلا دیا تم کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زمین میں اور آخرکار تم سب کو اس کے حضور لے جایا جائے گا اکٹھا کر کے
98 توحید وقدرت خداوندی کی ایک عظیم الشان دلیل کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی ہے جس نے پھیلا دیا تم سب کو اس ۔ عبرتوں بھری ۔ زمین میں نہایت پر حکمت طریقے سے "۔ توالد و تناسل کے ذریعے اور پھر تمہاری ضرورت کی چیزوں کو اس نے اس زمین پر اس حکیمانہ طریقے سے اور حیرت انگیز طور پر پھیلا اور بکھیر دیا کہ ان کے حصول کے لئے تم ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ہر طرف دوڑے بھاگے جا رہے ہو۔ جس سے زندگی کی یہ حرکت اور یہ عظیم الشان چہل پہل قائم و دائم اور جہد و مشقت کا یہ سلسلہ رواں دواں ہے۔ بلاشبہ اس سب میں اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، عظمت بےنہایت، رحمت لا محدود، عطائے غیر متناہی اور حکمت بالغہ کے عظیم الشان مظاہر ہیں جو ہر طرف پھیلے اور بکھرے پڑے ہیں۔ اور ہر صاحب عقل کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں ۔ { فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ ؟ } ۔ اور جس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تم کو اس زمین میں اس طرح پھیلا دیا وہی تم سب کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے۔ سو جس طرح تمہارے اس انتشار اور پھیلاؤ میں تمہاری رضا ومرضی کا کوئی دخل نہیں، اسی طرح تم چاہو یا نہ چاہو اور مانو یا نہ مانو، بہرکیف تم سب کو بالآخر اکٹھے ہو کر اس کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ 99 قیامت اور حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب کو اسی کے حضور لے جایا جائے گا اکٹھا کرکے "۔ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ سب نے اس کے حضور بہرحال حاضر ہونا ہے۔ مخلص اور ایماندار تو بصد شوق ورغبت جائیں گے ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ اور بےایمان و بدبخت کو بجبر واکراہ جانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پہنچ کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا ہوگا اور اس کے مطابق ہر کسی کو اس کے اس صلہ وبدلہ سے نوازا جائے گا جس کا وہ اپنے ایمان و عمل کی بنا پر حقدار ہوگا۔ سو اس ارشاد سے قیامت اور حشر کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے اور اس پر تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ کبھی اس طرح کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا کہ تم یہیں پیدا ہوئے اور یہیں مر کھپ کر ختم جاؤ گے۔ سو ایسی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ اس کی نتیجے میں تمہارا راستہ بدل جائے گا اور تمہارا زاویہ نگاہ بگڑ جائے گا اور تم ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ تم کوئی برسات کے کیڑے مکوڑے نہیں ہو کہ یونہی مرمٹ کر ختم ہوجاؤ اور اس حقیقت کو تم لوگ اپنے سامنے رکھو کہ جب کوئی کسان اپنی زمین میں بیج ڈالتا ہے تو محض بکھیرنے اور ضائع کرنے کی خاطر نہیں ڈالتا بلکہ ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرتا ہے۔ سو اسی طرح جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ایک دن وہ تم سب کو اکٹھا کر کے لائے گا اور تم نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔
Top