Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 83
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ
لَقَدْ وُعِدْنَا : البتہ ہم سے وعدہ کیا گیا نَحْنُ : ہم وَاٰبَآؤُنَا : اور ہمارے باپ دادا ھٰذَا : یہ مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل اِنْ ھٰذَآ : یہ نہیں اِلَّآ : مگر (صرف) اَسَاطِيْرُ : کہانیاں الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگ
یہ وعدہ تو ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی مدتوں سے ہوتا چلا آیا ہے پس یہ اگلے لوگوں سے چلے آنے والے افسانوں کے سوا کچھ نہیں،
103 منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ تو اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے مگر اب تک یہ پورا نہیں ہوا۔ سو یہ انسان کی تنگ نظری اور کوتاہ ظرفی کا ایک قدیم اور مشترکہ مظہر ہے۔ اسے یہ خبر نہیں کہ جس اللہ پاک کے یہاں ایک دن ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہے اس کے یہاں ماضی کے ان سالوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ نیز آخرت کی لامتناہی زندگی جس نے کبھی ختم نہیں ہونا اس کے مقابلے میں ماضی کی اس مدت کی کیا حیثیت ہے ؟ کیونکہ یہ اگرچہ ہزاروں لاکھوں سالوں پر بھی محیط ہو تو بھی یہ محدود ہے۔ جبکہ آخرت کی وہ زندگی غیر متناہی اور لامحدود ہے۔ تو محدود کا غیر محدود سے کیا مقابلہ ؟ سو محض اتنی بات پر اس کا وعدہ ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا رہا مگر وہ نہیں آئی اس کے انکار کی دلیل نہیں بن سکتا اور محض اس بناء پر اس کا انکار کرنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بڑی حماقت اور جہالت ہے۔ آخر تم لوگوں سے یہ کس نے کہا کہ وہ اتنے عرصے کے بعد یا اتنے سالوں میں آجائے گی ؟ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس کا وقت مقرر ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Top