Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
اور یہ پہلوں کے افسانے نہیں بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یہ یقینا پرلے درجے کے جھوٹے لوگ ہیں،
107 مشرکین و منکرین قطعی طور پر جھوٹے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ یقینا پرلے درجے کے جھوٹے ہیں "۔ جو اس کلام حق و صدق کو پہلوں کے افسانے قرار دیتے اور شرک کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں وہ خود انکے اپنے اعترافات کیخلاف ہے تو یہ اپنے آپ کو خود اپنے مونہوں سے جھٹلا دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی باتوں کا حق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ حق وہ ہے جو ہم نے انکو قرآن کی صورت میں دیا ہے۔ اب اگر یہ اس کو صدق دل سے مانتے ہیں تو یہ خود انکے حق میں بہتر ہوگا ورنہ یہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و شرک والے اپنے عقیدوں، دعو وں اور کافرانہ و مشرکانہ میتھالوجی میں قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ اور اس طرح اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کی ایسی باتوں کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد، محض من گھڑت ڈھکوسلے ہیں۔
Top