Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 94
رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
رَبِّ : اے میرے رب فَلَا تَجْعَلْنِيْ : پس تو مجھے نہ کرنا فِي : میں الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگ
تو میرے رب ایسی صورت میں مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیئو،3
110 پیغمبر کے کمال عبدیت اور شان بندگی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ آپ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے رب اگر آپ ان بدبختوں کو میری زندگی ہی میں عذاب دیں تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے۔ سو اس میں کمال عبدیت اور عبودیت کا اظہار ہے۔ اور اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن سنانا درحقیقت دوسروں کو ہے۔ ورنہ اللہ پاک کے رسول اکرم ﷺ کا ظالموں کے ساتھ عذاب میں شامل ہونے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ بلکہ آپ کے وجود باجود کی برکت سے تو آپ ﷺ کی زندگی میں یہ ظالم لوگ بھی عذاب سے بچے ہوئے تھے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ } ۔ (الانفال : 23) سو یہ پیغمبر کی کمال عبدیت اور شان بندگی کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ ہے۔ اس لیے سنن ترمذی (رح) وغیرہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ اللہ پاک کے حضور دعا فرمایا کرتے تھے کہ " اللہ اگر تو کسی قوم کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے اس فتنے سے بچا کر اپنی طرف اٹھا لینا "۔ (ابن کثیر، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ اور آپ کی اس مشہور و معروف دعا کے کلمات کریمہ اس طرح مروی ہیں " اذا اردت بقوم فتنۃ فتوفنی غیر مفتون " ۔ اخرجہ الامام احمد والترمذی ۔ سبحان اللہ کیا کہنے اس شان عبدیت وانابت کے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ وسار علی دربہ الی یوم الدین ۔ اللہ آپ کی سچی محبت اور اتباع و پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Top