Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
پر آپ یہی برتاؤ کیے جاؤ کہ برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو سب سے اچھا ہو ہم خوب جانتے ہیں ان سب باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں4
111 برائی کے جواب میں اچھائی سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ برائی کے جواب میں اس طریقے سے کام لیں جو سب سے اچھا ہو۔ جو کہ آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تقاضا ہے۔ اور اس طرح آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر مومن مخلص کے لئے بھی یہی درس عظیم ہے اور اس طرح دشمن بھی دوست بن جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پھر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فاذَا الّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عداوَۃ کَانَہ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ } ۔ یعنی اس طریقے کے نتیجے میں اور اس کی بنا پر آپ کا دشمن بھی ایسا موم ہوجائے گا کہ گویا کہ وہ جگری دوست ہے۔ بہرکیف آپ برائی کا جواب اچھائی ہی سے دیتے رہیں اور ان ظالموں کی شرانگیزیوں سے رنجیدہ اور دلگیر نہ ہوں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اور ان کی ہر شرارت اور شر انگیزی کا جواب ہم خود دیں گے۔ اور ان کو ان کے کیے کرائے کا مزہ ہم خود چکھا دیں گے۔ آپ کو ان کے رویے سے دل گیر اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Top