Tafseer-e-Madani - Aal-i-Imraan : 47
قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ
قَالَتْ : وہ بولی رَبِّ : اے میرے رب اَنّٰى : کیسے يَكُوْنُ لِيْ : ہوگا میرے ہاں وَلَدٌ : بیٹا وَّلَمْ : اور نہیں يَمْسَسْنِىْ : ہاتھ لگایا مجھے بَشَرٌ : کوئی مرد قَالَ : اس نے کہا كَذٰلِكِ : اسی طرح اللّٰهُ : اللہ يَخْلُقُ : پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے اِذَا : جب قَضٰٓى : وہ ارادہ کرتا ہے اَمْرًا : کوئی کام فَاِنَّمَا : تو يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے لَهٗ : اس کو كُنْ : ہوجا فَيَكُوْنُ : سو وہ ہوجاتا ہے
مریم نے (اس پر بطور تعجب) عرض کیا کہ اے میرے رب، میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا، جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا بھی نہیں، (اس پر ان کو) جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا، اللہ (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) جو چاہتا ہے پیدا فرما ہے، وہ جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو اسکو صرف اتنا کہتا ہے کہ " ہوجا " تو وہ ہوجاتا ہے،
105 حضرت مریم کی بےمثال پاک دامنی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت مریم صدیقہ کی بےمثال پاک دامنی کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے کہ ان کے لیے قرآن حکیم میں اس امر کی تصریح فرمائی گئی کہ ان کو کسی بشر نے چھوا بھی نہیں تھا : نہ جائز طریقے سے، کہ آپ کا کسی سے نکاح نہیں ہوا تھا، اور نہ ناجائز طریقے سے، کہ آپ کی پاکیزہ ہستی اس طرح کے کسی تصور اور شائبہ سے بھی پاک تھی۔ اس لیے انہوں نے کمال تعجب سے عرض کیا کہ میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح پیدا ہوگا، جبکہ مجھے کسی نے چھوا بھی نہیں۔ اور بچے کی پیدائش اس عالم اسباب و مسببات میں مرد اور عورت کی مباشرت اور باہمی اتصال ہی پر مبنی و موقوف ہوتی ہے۔ سو یہ مریم صدیقہ کی طرف سے تعجب کا اظہار تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے آپ کا مقصد یہ پوچھنا اور اس بارے سوال کرنا ہو کہ کیا بچے کی یہ بشارت یونہی خرق عادت کے طور پر پوری ہوگی، یا اس کیلئے مجھے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا پڑے گا۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت مریم نے اس بارے اپنے استعجاب کا ذکر فرمایا کہ اسباب کے بغیر ایسے کس طرح ممکن ہوگا۔ 106 اللہ کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے اعلیٰ وبالا ہے : سو حضرت مریم کو ان کے اس سوال واستعجاب کا جواب ملا کہ ایسے ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ یعنی تم اپنی اسی حالت پر رہو گی، رشتہ ازدواجیت کی استواری کے بغیر، اور معروف طریقہ تولید و توالد کے فقدان کے باوجود۔ اللہ پاک اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہیں اس عظیم الشان بچے سے نوازے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ اس کی قدرت کاملہ نہ سلسلہ اسباب و مسببات کی محتاج ہے، اور نہ ہی اس پر موقوف اور اس کی پابند۔ حضرت زکریا (علیہ الصلوۃ والسلام) کی بشارت کے ضمن میں فِعْل " یَفْعَلُ " ذکر فرمایا گیا تھا، اور یہاں پر اس کی بجائے " یَخْلُقُ " لایا گیا ہے۔ اس لئے کہ وہاں پر اس بشارت کا تحقق ظاہری اسباب کے ماتحت ہی ہوا تھا کہ بچے کی ماں اور اس کا باپ دونوں موجود تھے، جبکہ یہاں پر ظاہری اسباب کے برعکس والد کے بغیر صرف والدہ ہی سے ولادت ہو رہی تھی۔ تو یہاں تکوین و ایجاد ہے، جس کے لئے " خلق " کا لفظ ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وہاں پر صورت حال اس سے مختلف تھی۔ اس لئے وہاں " یَفْعَلُ " فرمایا گیا ۔ سبحان اللہ !۔ مَا اَجْمَلَ وَمَا اَدَقَّ ہٰذَا الْکَلامُ الْمَجِیْدُ ۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے اس کے اسرار و رموز سے زیادہ سے زیادہ مطلع و مستفید ہونے کی توفیق بخشے اور اس کے سمجھنے کے لیے سینہ کھول دے اور ظاہر و باطن کو اس کے انوار سے منور فرما دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو ظاہر اور آشکارا فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے اعلی وبالا ہے۔ وہ سلسلہ اسباب و مسببات کی پابند نہیں۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 107 اللہ تعالیٰ کی شان " کن فیکون " کی شان ہے : یعنی وہاں پر اسباب و وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف حکم و ارشاد کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ جونہی حکم ہوا شئی موجود ہوگئی۔ اَسباب و وسائل کی وہاں سرے سے کوئی ضرورت ہوتی ہی نہیں۔ پس تم اس بشارت پر تعجب مت کرو، اور اس کا یہ حکم حکم تکوین کہلاتا ہے جس میں نہ کسی کا کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ ہی ایسے حکم کی بجاآوری پر کوئی اجر وثواب جبکہ اس کے حکم کی دوسری قسم حکم تشریعی کہلاتی ہے، جس میں انسان کو اختیار ہوتا ہے اور اسی پر اس کو اجر وثواب بھی ملتا ہے۔ سو اس وحدہ لاشریک کی شان " کُنْ فَیَکُوْن " کی شان ہے۔ جو کرنا چاہتا ہے اس کے لئے صرف حکم دیتا ہے تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔ سو وہاں پر اسبا اور مسببات کی ضرورت و احتیاج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی شان اس سب سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Top