Tafseer-e-Madani - Al-Ghaafir : 56
اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يُجَادِلُوْنَ : جھگڑتے ہیں فِيْٓ : میں اٰيٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی آیات بِغَيْرِ : بغیر سُلْطٰنٍ : کسی سند اَتٰىهُمْ ۙ : ان کے پاس آئی ہو اِنْ : نہیں فِيْ : میں صُدُوْرِهِمْ : ان کے سینے (دل) اِلَّا : سوائے كِبْرٌ : تکبر مَّا هُمْ : نہیں وہ بِبَالِغِيْهِ ۚ : اس تک پہنچنے والے فَاسْتَعِذْ : پس آپ پناہ چاہیں بِاللّٰهِ ۭ : اللہ کی اِنَّهٗ : بیشک وہ هُوَ السَّمِيْعُ : وہی سننے والا الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا
بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر ایسی کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو ان کے دلوں میں ایسی بڑائی (کا گھمنڈ) ہے جس کو وہ کبھی پہنچ نہیں سکتے سو (ایسوں کے مقابلے میں) پناہ مانگو تم اللہ کی بیشک وہی ہے سنتا (ہر کسی کی) دیکھتا (سب کچھ)
107 کبر و غرور باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے انکار کی اصل علت انکا کبر و غرور ہے جو ان کو قبول حق اور اتباع حق سے روک رہا ہے کہ اس طرح انہیں حق کے ماتحت رہنا پڑے گا۔ اور یہ انہیں گوارا نہیں۔ اس لئے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ حق اور اہل حق کو سر بلندی نصیب نہ ہو اور ان ہی کی کھڑپینچی اور سرداری چلتی رہے۔ اسی لئے یہ لوگ جاننے کے باوجود آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مگر کیا اس طرح یہ لوگ حق کو نیچا دکھا سکیں گے اور اپنی غرض کو پہنچ جائیں گے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ حق بہرحال غالب ہو کر رہے گا اگرچہ ایسے منکروں کو ناگوار گزرے۔ اور یہ لوگ اپنی مراد کو کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ سو معلوم ہوا کہ کبر یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ قبول حق اور اتباع حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی بات جب تھی اور یہی اب ہے۔ آج بھی کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو محض اپنی بڑائی کے زعم باطل میں علمائے حق کی بات قبول نہیں کرتے اور وہ حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ اپنی اس غرض کو کبھی پا نہیں سکیں گے۔ سو عظمت وکبریائی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق اور اسی کی شان ہے۔ اور بندے کا کمال اور اس کی شان اسی میں ہے کہ وہ اپنی عبدیت میں کمال پیدا کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 108 پناہ دینا اللہ ہی کا کام اور اسی کی شان ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے اور سب کو پناہ دینے والا اللہ ہی ہے تو تم پناہ مانگو اللہ کی۔ بیشک وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا۔ پس اس کی پناہ میں آجانے والے کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ فَاَعِذْ نَا مِنْ شُرُوْراَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَآتِ اَعْمَالِنَا ومِنْ مَّکْرِ اَعْدَائِنَا بِمَنِّکَ وَ کَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس آیت کریمہ سے کئی اہم اور بنیادی حقائق کو واضح اور آشکارا فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ جو لوگ آپ کے ساتھ اللہ کی آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو وہ اس لیے نہیں کہ انکے سامنے حق واضح نہیں ہوا یا آپ ﷺ کی تبلیغ و تفہیم میں کوئی فرق و قصور ہے۔ یا ان لوگوں کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل موجود ہے۔ نہیں ایسی کوئی بھی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اگر آپ کی بات تسلیم کرلی تو آپ ﷺ کی برتری تسلیم کرنا پڑے گی اور اس میں انکے کبر و غرور اور ان کی بڑائی کا پندار رکاوٹ ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اپنے اس کبر و غرور کی بنا پر یہ آپ ﷺ کے درپے آزار بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا اس سے بچنے کیلئے آپ ﷺ اپنے رب کی پناہ مانگیں کہ وہی ہے جو ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ پس پناہ وہی دے سکتا ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ اور جب حضرت امام الانبیائ ﷺ بھی اسی کی عنایت و دستگیری کے محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکے ؟ پس حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا لوگوں نے اپنے طور پر جو طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ سب باطل و مردود اور بےحقیقت و بےبنیاد اور خرافات کا پلندہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Top