Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور (ان کو یہ بھی بتادو کہ) جس چیز کے بارے میں بھی تمہارے درمیان اختلاف واقع ہوجائے تو اس کا فیصلہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
22 ہر اختلاف کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے : سو اس ارشاد سے ہر اختلاف اور تنازع کا فیصلہ اللہ ہی کے حکم و ارشاد کے مطابق کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور حاکم و حکیم اور علیم وخبیر بھی وہی۔ اور اپنے بندوں پر مہربان اور رحمن و رحیم بھی وہی۔ تو یہ فیصلہ بھی وہی فرما سکتا ہے کہ انسان کے لئے مفید کیا ہے اور مضر کیا۔ اس کا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں۔ اس کے لئے حق و حلال کیا ہے اور ناجائز و حرام کیا۔ اس کے لئے بہتر کیا ہے اور بدتر کیا۔ پس اسی کا فیصلہ صحیح اور عین حق و صدق ہوسکتا ہے اور اسی میں انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا راز مضمر ہے۔ اور اسی کی متعین فرمودہ راہ انسان کے لئے حقیقی فوز و فلاح کی ضامن و کفیل ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہر اختلاف کے موقع پر اور ہر حال میں رجوع بہرحال اسی کی طرف کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ } ۔ (النسائ : 59) اور یہی راہ ہے حق و صواب کی جس سے روگردانی مومن کے لئے کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ } ۔ (الاحزب : 36) ۔ بہرکیف اس میں یہ عظیم الشان اور اہم بنیادی درس دیا گیا ہے کہ ہر اختلاف اور تنازع کی صورت میں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم و فیصلہ کی طرف رجوع کرو کہ ہر اختلاف کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 23 یہ ہے اللہ جو رب ہے میرا ۔ سبحانہ و تعالیٰ : جس کی یہ اور یہ صفتیں ہیں۔ وہی رب ہے میرا اور ساری مخلوق کا۔ اور اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ سب ظن وتخمین کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور راہ حق و صواب سے محروم ہیں ۔ { اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ۔ بہرکیف ربِّ معبود حقیقی اور ہر تنازع و اختلاف کا فیصلہ کرنے کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور حاجت روا و کارساز بنا رکھے ہیں وہ سراسر دھوکے اور گمراہی میں پڑے ہیں۔ اور ان کا انجام بڑا ہی بھیانک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے سوا لوگوں نے جو دوسرے طرح طرح کے سہارے گھڑ رکھے ہیں وہ سب بےحقیت اور بےبنیاد ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 24 اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کی زبان سے کہلوایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں کہلوایا گیا کہ " یہ ہے اللہ جو کہ رب ہے میرا "۔ میں نے اسی ۔ وحدہ لاشریک۔ پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ کہ بھروسہ و اعتماد کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے میرا بھروسہ و اعتماد بھی اسی پر ہے اور ہر مومن کو بھی بھروسہ و اعتماد اسی پر رکھنا چاہیئے کہ ہر قسم کا نفع و نقصان اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم فرمائی گئی ہے کہ بھروسہ کے لائق وہی وحدہ لا شریک ہے جو بلاشرکت غیرے اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور ہر چیز کی باگ ڈور اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Top