Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین (کے تمام خزانوں) کی وہ روزی کشادہ فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے (حساب کی اور) نپی تلی دیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے
28 آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین ۔ کے خزانوں ۔ کی "۔ پس وہ جس کو چاہے دے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ وہ جس کو دینے اور نوازنے پر آجائے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جس کو نہ دینا چاہے کوئی اس کو دلوا نہیں سکتا۔ پس تم لوگ ہر حال میں اسی کے حضور دست سوال دراز کرو اور اس کے سوا اور کسی سے مانگنے کی ذلت نہ اٹھاؤ کہ تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور اس کی تخلیق فرمودہ اور قائم کردہ اس کائنات میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کا خالق وہ ہے تو ضروری ہے کہ اسکا مالک بھی وہی ہو۔ یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ ان سب کو پیدا تو کرے وہ لیکن پیدا کرنے کے بعد ان کی چابیوں کے مالک بن جائیں کوئی دوسرے ؟ سو ایسا ہر تصور غلط اور اس طرح کی ہر سوچ گمراہی پر مبنی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ زمین و آسمان کے تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کے حکم و ارشاد سے آسمان سے بارش اترتی ہے جس سے ہر چیز کو زندگی ملتی ہے۔ اور اسی کے حکم و ارشاد سے زمین اپنے طرح طرح کے خزانے اگلتی ہے جس سے دنیا طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر قسم کے شکر کا حقدار بھی وہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو کچھ ملتا ہے اسی کے یہاں سے اور ای کی طرف سے ملتا ہے ۔ جل جلالہ و عم نوالہ ۔ 29 رزق روزی بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور نپی تلی دیتا ہے جسکو چاہتا ہے "۔ سو رزق روزی کی تقسیم کے سلسلے میں اس ارشاد عالی سے دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتیں واضح فرما دی گئیں۔ ایک یہ کہ روزی کی بست و کشاد کا معاملہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ کسی اور کا اس میں نہ کوئی عمل دخل ہے نہ اختیار۔ اور دوسری بات یہ کہ رزق و روزی کی فراخی و تنگی نہ کسی کے محبوب و مقبول عند اللہ ہونے کی علامت ہے اور نہ ہی اس کی تنگی اس کے مبغوض و مطرود ہونے کی نشانی۔ بلکہ اس کا تعلق دوسری مختلف حکمتوں اور مصلحتوں سے ہے جس کا علم و احاطہ حضرت حق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہی کے ساتھ مختص ہے۔ سو رزق و روزی کے پیدا کرنے میں اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی دیوی دیوتا یا کسی " ہستی " اور " سرکار " وغیرہ کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ اس کی تقسیم میں۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جسکو چاہتا ہے کشادہ روزی عطا فرماتا ہے اور جسکو چاہتا ہے نپی تلی دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس ہر قسم کے شکر اور ہر طرح کی عبادت و بندگی کا حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فانا نسال التوفیق لذلک والسداد والثبات علیہ - 30 اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے "۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے لئے روزی کی کشادگی بہتر ہے اور کس کے لئے اس کی تقتیر و تنگی۔ بندے کا کام ہے کہ اپنے بس کی حد تک کوشش اور محنت کرے۔ اور اس کے بعد معاملہ اسی وحدہ لاشریک کے حوالے کر دے کہ جو وہ کرے گا اسی میں بہتری ہوگی اور ہمارا کام ہے رضا بقضاء ہے اور بس۔ اس لیے بندے کو ہمیشہ امید بھی اسی سے رکھنی چاہیئے اور اسی سے ڈرتے بھی رہنا چاہیئے۔ اور اگر کسی کے رزق و روزی میں تنگی ہو تو اس کو اس طرح کی کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ خدا کو اس کی خبر نہیں یا اس نے اس کے ساتھ کوئی ناانصافی کی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ یہ اطمینان رکھنا چاہیئے کہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے خدا کے علم سے ہو رہا ہے اور یہی حکمت کا تقاضا ہے۔
Top