Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اور یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس پہنچ گیا علم (حق اور حقیقت کا) محض آپس کی ضد (اور حسد) کی وجہ سے اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک (ڈھیل دینے کی) ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان لوگوں کے درمیان (اس جرم شدید کے عذاب کا) فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور جن لوگوں کو وارث بنایا گیا اس کتاب (ہدایت) کا ان کے اگلوں کے بعد تو وہ یقینا اس کے بارے میں ایک بڑے ہی اضطراب انگیز شک میں پڑے ہیں
36 باہمی ضد اور حسد باعث محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا تھا " یعنی حق اور حقیقت کا علم۔ سو انہوں نے محض آپس کی ضد اور حسد کی بنا پر اس میں اختلاف کیا اور باہم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ راہ حق و صدق میں کسی طرح کا کوئی خفاء و غموض نہیں تھا۔ مگر آپس کی ضد اور حسد نے ان کا بیڑا غرق کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو باہمی ضد و حسد اور عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی و ہلاکت اور وہ بھی اس صورت میں کہ علم حق و ہدایت کا نور انکے پاس پہنچ گیا کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کا جرم مزید سخت اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے کیونکہ رات کے اندھیرے میں اگر کوئی ٹھوکر کھائے تو اس کیلئے عذر و معذرت کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن جو دن کی روشنی میں ہلاکت کے کھڈے میں جاگرے اس کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی مضمون کو اس مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ۔ { وَمَا تَفَرَّقُوْا الاَّ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ } ۔ (الشوری :14) ۔ یعنی " یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضد کی بنا پر "۔ سو باہمی ضد وحسد اور عناد وہٹ دھرمی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اس بیماری سے اور اس طرح کی جملہ بیماریوں سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 37 ہر امت کیلئے ایک حد تک مہلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک مدت تک مہلت کی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا معاملہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا "۔ اور یہ کہ اصل اور پوری سزا آخرت میں ہی ہوگی نہ کہ دنیا میں۔ کہ دنیا دارالجزاء نہیں دارالعمل اور امتحان گاہ ہے۔ اس لیے تمہارے رب کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ہر امت کو اتمام حجت کیلئے ایک خاص حد تک مہلت دی جائیگی۔ تاکہ وہ غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و حقیقت کو اپنالے۔ نہیں تو اپنا پیمانہ لبریز کرکے اپنے آخری انجام کیلئے تیار ہوجائے۔ اور اس طور پر کہ اس کیلئے عذر و معذرت کی پھر کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سو اسی بنا پر دور حاضر کے ان منکروں کو بھی مہلت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو انکے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف ان امتوں کیلئے زجر و توبیخ اور تنبیہ و تذکیر کہ وہ اپنے کفر و انکار سے باز آجائیں۔ ورنہ اپنے اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 38 اہل کتاب کو نعمت قرآن کی قدردانی کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا گیا ان کے بعد جو ان سے پہلے گزر چکے وہ اس قرآن کی بنا پر خلجان انگیز شک میں پڑے ہیں "۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب جن کو اپنی کتاب اپنے بڑوں سے ملی کہ ان کا ایمان و یقین اپنی کتاب پر چونکہ حقیقی اور دلیل و برھان پر مبنی نہیں تھا۔ محض رسمی موروثی اور برائے نام تھا۔ اس لئے ان کا حال یہ تھا جو آگے بیان فرمایا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یا یہاں پر کتاب سے مراد قرآن مجید ہے جس کے بارے میں یہ لوگ ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ (المراغی، المحاسن، البیضاوی وغیرہ) ۔ سو حضرت عیسیٰ کی دعوت سے جو امت ظہور میں آئی اس کے اور یہود کے درمیان شروع ہی سے ایک چپقلش اور مخاصمت و دشمنی برپا رہی اور اس میں اصلی دخل علمائے یہود کے عناد کا تھا۔ اور وہ اسی وجہ سے ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعد میں خود نصاریٰ کے اندر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے اور پال نے اپنی شیطنت سے ان کو تورات اور انجیل دونوں کی روشنی سے محروم کردیا۔ اس کے بعد جب خداوند قدوس نے دنیا کو نعمت قرآن سے نوازا تو عقل و نقل کا تقاضا تھا کہ تمام لوگ اور خاص کر یہود و نصاریٰ آگے بڑھ کر اس کو اپناتے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنے کا سامان کرتے۔ مگر انہوں نے الٹا اسی روشنی کو گل کرنے کی سعی نامراد شروع کردی۔ سو اس طرح اس ارشاد میں ان لوگوں کی توبیخ و تقریع بھی ہے اور نعمت قرآن کی قدردانی کی تعلیم و تلقین بھی۔ 39 ایمان سے محرومی کا نتیجہ خلجان و اضطراب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نعمت قرآن سے روگردانی برتنے والے اور اس کے ساتھ کفر وانکار کا برتاؤ کرنے والے اس قرآن کی وجہ سے قطعی طور پر ایک خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ یعنی جن لوگوں کو ان کی کتاب ان کے اگلوں سے وراثت میں ملی اور وہ اس پر ویسے ایمان نہیں لائے جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ وہ ایمان و یقین کی دولت سے ملنے والے سکون و اطمینان سے محروم اور خلجان و اضطراب انگیز شک میں پڑے ہیں۔ سو ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ خلجان و اضطراب ہے۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے انسان کو سکون و اطمینان کی دولت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور کفر و انکار سے خلجان و اضطراب اور سکون واطمینان سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top