Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ جھگڑے کرتے ہیں اللہ (کے دین) کے بارے میں اس کے بعد کہ اس کو قبول کرلیا گیا تو ان کی حجت بازی باطل ہے ان کے رب کے نزدیک ان پر اس کا بھاری غضب ہے اور ان کے لئے بڑا ہی سخت عذاب ہے
47 اللہ کی توحید کے بارے میں کٹ حجتی کرنے والوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں "۔ یعنی اس کے دین حق اور اس کی توحید اور وحدانیت مطلقہ کے بارے میں تاکہ اس طرح وہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے روک سکیں۔ اور جن گھٹا ٹوپ اندھیروں میں وہ خود ڈوبے ہوئے ہیں ان میں وہ دوسروں کو بھی غرق کردیں ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ " محاجۃ " کے معنیٰ " مجادلہ " اور کٹ حجتی کے آتے ہیں۔ اور { فی اللہ } میں یہاں پر " فی " کے بعد مضاف محذوف ہے ۔ ای فی توحید اللہ ۔ یعنی اللہ کی توحید کے بارے میں۔ کیونکہ مخالفین کا جھگڑا اصل میں اس وحدہ لاشریک کی توحید ہی میں تھا۔ ورنہ اس کے وجود باوجود کے بارے میں کسی کا جھگڑا نہ تھا نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 48 توحید خداوندی کے بارے میں جھگڑنے والوں کی حجت بازی باطل ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگوں کی حجت بازی ان کے رب کے یہاں باطل ہے "۔ کہ اس کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ یہود کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کچھ لوگوں کو ان کے ایمان لانے کے بعد دین حق سے پھیرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن الفاظ و کلمات کا عموم بہرحال ایسے ہر حجت باز کو عام اور شامل ہے جس نے ایسا جھگڑا اٹھایا اور حجت بازی کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 49 منکرین توحید کے لیے سخت عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید خداوندی کے بارے میں کٹ حجتی کرنے والوں کے لیے بڑا سخت عذاب ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں پر بڑا بھاری غضب ہے اور ان کیلئے بڑا ہی سخت عذاب ہے "۔ قیامت کے دن جو کہ اتنا شدید اور اس قدر ہولناک ہوگا کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے لوگوں نے بڑے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کیا جس کے باعث ان کو ایسا ہولناک اور شدید عذاب بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ایسوں کی یہ کٹ حجتی انکے رب کے یہاں انکے کچھ بھی کام نہیں آسکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر۔ { مِنْ بَعْدِ مَا ا سْتُجِیْبَ لَہُ } ۔ سے توحید خداوندی کے بارے میں کٹ حجتی سے کام لینے والوں کے اس جرم و قصور کی سنگینی کو اور واضح فرما دیا گیا۔ کیونکہ تمام انبیاء و رسل نے سب سے پہلے توحید ہی کی دعوت دی۔ اور اس سے بھی پہلے توحید خداوندی انسانی فطرت وجبلت میں پیوست اور فطرت انسانی کی پکار ہے۔ ایسے میں اس کے بارے میں کٹ حجتی کا جرم اور بھی زیادہ سنگین ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Top