Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اللہ وہی ہے جس نے اتارا اس کتاب کو حق کے ساتھ اور میزان کو بھی اور تمہیں کیا خبر کہ شاید (فیصلے کی) وہ گھڑی قریب ہی آلگی ہو
50 قرآن حکیم میزان خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے اتارا کتاب کو اور میزان کو لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے اور ان کے حقوق کی تحدید و توضیح کے لیے "۔ سو یہ کتاب حکیم میزان خداوندی ہے۔ پس " المیزان " دراصل " الکتاب " کا بیان ہے۔ پس اس نے میزان کو اتارا، یعنی عدل و انصاف کو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے۔ اور عدل و انصاف کو میزان سے اس لئے تعبیر فرمایا گیا کہ وہ عدل و انصاف کے قیام کا ذریعہ اور سبب ہے۔ تو یہ تسمیۃ الشی بسببہ کے قبیل سے ہوگا اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (ابن کثیر، صفوہ، مدارک وغیرہ) ۔ اور یہ عدل و انصاف چونکہ قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی ہی کے ذریعے قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ دراصل " الکتاب " یعنی قرآن حکیم کا ذکر وبیان ہے۔ سو جیسا کہ اوپر آیت نمبر 15 میں پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کروایا گیا کہ " کہو میں ایمان لایا اس کتاب پر جس کو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں " تو اسی بات کو یہاں پر دوسرے لفظوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب پیغمبر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور فرمایا گیا ہے کہ آپ مختلف ملتوں کے درمیان اس اختلاف کے بارے میں فیصلہ فرمائیں جو انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں کیا ہے تو ضروری ہوا کہ آپ ﷺ کو ایسی کتاب حق و ہدایت عطا فرمائی جائے جو میزان عدل کا کام دے۔ جس پر پرکھ کر آپ ﷺ بتاسکیں کہ کس کے پاس حق کتنا ہے اور باطل کتنا۔ سو وہ یہی کتاب حق قرآن مجید ہے جو حق و باطل کی پرکھ کیلئے میزان عدل و انصاف اور کسوٹی ہے۔ اسی لیے اس کی ایک صفت " مہیمن " بھی ہے جسکے معنیٰ " کسوٹی " کے بھی آتے ہیں۔ سو یہ کتاب مبین یعنی قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی میزان عدل وانصاف ہے جس کے ذریعے ہر صاحب حق کی حق کو پوری باریکی کے ساتھ واضح فرما دیا گیا ہے۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم کے منکر اور اس کے نور حق و ہدایت سے محروم ہیں وہ دولت عدل وانصاف سے محروم ہیں۔ نہ وہ خالق کے حق کو پہچان سکتے ہیں اور نہ ہی مخلوق کے حقوق کو خواہ اس کے لیے کتنے ہی بڑے اور بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 51 قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہیں کیا خبر کہ شاید ۔ فیصلے کی ۔ وہ گھڑی قریب ہی آلگی ہو "۔ اس لئے انسان کو ہر وقت اس کی فکر اور اس کی تیاری میں لگے رہنا چاہیئے کہ پتہ نہیں وہ کب آجائے اور کس حالت میں اور کہاں آجائے۔ اور کمائی کا یہ موقع جو آج میسر ہے ہاتھ سے نکل جائے۔ کیونکہ قرآن حکیم کی تصریح کے مطابق وہ بالکل اچانک آئے گی ۔ { لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً } ۔ پھر ہر شخص کے حق میں قیامت تو اس کی اپنی موت ہی ہے کہ اس کے بعد اس کے لئے عمل کی کوئی فرصت نہ ہوگی۔ اور کسی کو بھی پتہ نہیں کہ اس کی موت کب کہاں اور کیسے آنے والی ہے۔ اور یوں بھی ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے ۔ " کُلُّ مَا ہُوَ اٰتٍ فَہُوَ قَرِیْبٌ " ۔ یعنی " ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے "۔ پس قیامت کی اس ہولناک گھڑی کے آنے سے پہلے کتاب و سنت کی اتباع اور عدل و انصاف کے قیام پر مداومت کر کے اس کے لئے تیاری کرلو ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا ۔ اور جو لوگ آج دنیاوی زندگی میں قرآن کے اس میزان عدل سے گریز و فرار کی راہ کو اپنائے ہوئے ہیں آخر قیامت کے اس یوم عدل و انصاف اور میزانِ حق سے کیسے اور کہاں بھاگیں گے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ قرآن حکیم کی اس میزان عدل وانصاف کے مطابق اپنے اختلافات رفع کریں گے اور راہ حق و ہدایت کو اپنائیں گے وہ بڑے خوش نصیب لوگ ہیں۔ ورنہ قیامت کے روز تو ان سب کے درمیان فیصلہ بہرحال ہو کر ہی رہے گا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔ اور اس طور پر کہ کسی کے لیے کسی راہ فرار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور قیامت کی اس ہولناک گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ بعید نہیں کہ وہ تمہارے قریب ہی آ لگی ہو۔ سو جو لوگ آج قرآن کی میزان عدل سے گریزاں ہیں آخر وہ کل میزان قیامت سے کیسے اور کہاں بھاگیں گے ؟ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Top