Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان لوگوں کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کا وہ طریقہ نکال لیا ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی اور اگر فیصلے کی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ ظالموں کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے
58 دین شرک کے لیے کوئی گنجائش نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام استعجاب و استنکار کے ساتھ فرمایا کیا کہ " کیا ان لوگوں کے کوئی ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کیلئے دین کا کوئی ایسا طریقہ نکال لیا ہو جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ان کے ایسے کوئی شریک ہوسکتے ہی نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اس دین حق کی اتباع و پیروی کیوں نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے نازل فرمایا ہے۔ جو ان کے لئے دارین کی سعادتوں کا ضامن و کفیل ہے۔ اس صورت میں یہ استفہام انکاری ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمْ مِّنْ دُوْنِنَا } ۔ (الانبیاء :43) اور یا یہ " اَمْ " منقطعہ ہے جو " بل " کے معنیٰ میں آتا ہے۔ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوگا کہ یہ لوگ اللہ پاک کی شریعت کا اتباع نہیں کرتے بلکہ ان چیزوں کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے لئے ان کے شرکاء نے مقرر کی ہوتی ہیں۔ جس سے ایسے لوگ اللہ پاک کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور اس کی حرام فرمودہ اشیاء کو حلال ٹھہراتے ہیں۔ خواہ وہ شرکاء شیاطین الانس کی شکل میں ہوں یا شیاطین الجن کی شکل میں۔ بہرکیف استفہام تقریع و توبیخ اور استعجاب و استنکار کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل فرمودہ دین حق کے سوا اور کوئی دین ایسا ہے ہی نہیں جس کی پیروی کی جائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، مدارک اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو دین حق وہی اور صرف وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے اپنی رحمت و عنایت سے نازل فرمایا ہے۔ یعنی اسلام۔ جو ایک ہی دین ہے جسکی تمام انبیاء و رسل نے تبلیغ و تلقین فرمائی۔ اور سب نے اسی کی دعوت دی۔ اور جس کی اساس و بنیاد توحید و وحدانیت خداوندی ہے۔ اس کے سوا جو بھی کوئی دین کسی نے اختیار کیا وہ اس سے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور ایسا شخص آخرت میں سراسر خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ سو دین شرک کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ نہ عقل کے اعتبار سے اور نہ نقل کے اعتبار سے۔ اور شرک کے لیے کوئی اساس و بنیاد نہیں سوائے اوہام و خرافات کے ۔ والعیاذ باللہ -
Top