Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہ وہی ہے جو توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے اور وہ درگزر فرماتا ہے ان کی (خطاؤں اور) برائیوں سے اور وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو
64 توبہ اور اصلاح احوال کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور درگزر فرماتا ہے ان کی برائیوں سے "۔ لہٰذا کسی کے لئے بھی اس کی بارگہ سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ سچے دل اور صحیح طریقے سے اس کی طرف انابت و رجوع کی ضرورت ہے ۔ اللّٰہم وَفّقِنْا لما تُحِبُّ وَتَرضٰی من القول والعمل ۔ سو اس ارشاد میں منکرین و مکذبین کیلئے توبہ اور اصلاح کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر تم چاہو تو توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے اب بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے عذاب سے بچا سکتے ہو کہ وہ بڑا ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ اس کے یہاں کسی کے لیے بھی محرومی نہیں۔ وہ بڑا ہی مہربان اور نہایت ہی درگزر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی طرف رجوع رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین - 65 اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو " کسی بھی حال میں اور کسی بھی موقع و مقام پر۔ پس تمہیں اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ بہرحال دیا جائے گا۔ اس لئے تم اپنے اعمال کا محاسبہ خود کر کے دیکھ لیا کرو کہ تم کس طرح کے بدلے کے مستحق ہو ؟ سو تمہارا کوئی جرم اور تمہارا کوئی قول و فعل اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں۔ اور نہ تم اپنے کسی بھی عمل کو اس سے چھپا سکتے ہو۔ لیکن وہ اپنی رحمت و عنایت اور مہربانی سے اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے کہ اس کی شان ہی درگزر فرمانا ہے۔ پس ضرورت سچے دل سے اس کی طرف رجوع ہونے اور رجوع رہنے کی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Top