Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور وہ قبول فرماتا ہے دعاء (و عبادت) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور ان کو اور زیادہ دیتا ہے اپنے فضل (و کرم) سے اور جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر ان کے لئے بڑا ہی سخت (اور ہولناک) عذاب ہے
66 اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خاص نوازش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ قبول فرماتا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور انکو اپنے فضل سے مزید نوازتا ہے "۔ یعنی ان کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر وہ ان کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے منکرین و مکذبین کے سامنے اہل ایمان کی روش اور انکا انجام رکھ دیا گیا ہے تاکہ اس سے ان کیلئے یہ امر واضح ہوجائے کہ جس طرح انہوں نے دعوت حق پر لبیک کہہ کر اپنے خالق ومالک کی ان عنایات سے سرفرازی حاصل کی اور وہ دنیا و آخرت میں سکے افضال سے سرفراز و فیضیاب ہوئے اسی طرح اگر یہ لوگ بھی چاہیں تو اس کے ان افضال اور ایسی عنایات کے سزاوار اور حقدار بن سکتے ہیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ کفار و منکرین کیلئے اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا سخت عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو ان کو اپنے کفر و انکار کے نتیجے میں بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top