Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہ وہی ہے جو اتارتا ہے بارش کو اس کے بعد کہ لوگ (نا امید و) مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ (ہر طرف) پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت (اور اس کے آثار و نتائج) اور وہی ہے کارساز اور ہر تعریف کے لائق
69 بارش کا اتارنا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ وہی ہے جو بارش اتارتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ ہر طرف پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت اور اس کے آثار و نتائج کو اور وہی ہے کارساز اور ہر تعریف کے لائق "۔ سو جس طرح وہ جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ظاہری بارش اتارتا ہے اسی طرح وہ دلوں کی زندگی و شادابی کے لئے وحی سماوی کی باران رحمت بھی نازل فرماتا ہے جس سے دلوں کی کھیتیاں زندئہ و تازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہیں۔ اور جو اب اپنی کامل اور آخری شکل میں قرآن حکیم کی صورت میں قیامت تک کے لئے تمام بنی نوع انسان کی سیرابی و فیضیابی کے لئے موجود ہے۔ سو جنہوں نے اس سے منہ موڑا ان کے دلوں کی کھیتیاں مردہ اور ویران ہیں اگرچہ دنیاوی اعتبار سے اور مادی لحاظ سے انہوں نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو۔ سو جس طرح انسان کی معاشی ضروریات اور اس کے جسمانی تقاضوں کا سارا دارومدار پانی اور بارش پر ہے اسی طرح اس کی باطنی اور روحانی ضروریات اور دلوں کی زندگی وحی سماوی کی روحانی اور معنوی بارش پر موقوف ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اسکا بھی حکمتوں بھرا اور کامل انتظام فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس ارشاد میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے۔ سو اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ ہی اپنے اندازے کے مطابق اپنے بندوں کے لیے روزی اتارتا ہے۔ اس میں نہ بندوں کو کچھ اختیار ہے اور نہ ان کے مزعومہ شرکاء کو۔ سو اب اس دلیل کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہی بارش اتارتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب بارش کا اتارنا اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے تو روزی کا معاملہ بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ رزق و روزی کا اور معاش کا تمام تر انحصار بارش ہی پر ہے۔
Top