Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 31
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَمَآ اَنْتُمْ : اور نہیں تم بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور تم ایسے نہیں ہو کہ عاجز کردو (اپنے رب کو اس کی) زمین میں اور اللہ کے مقابلے میں نہ تمہارا کوئی یار ہوسکتا ہے نہ مددگار2
74 اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کا یار و مددگار نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ " اللہ کے مقابلے میں تمہارا نہ کوئی یار ہوسکتا ہے نہ مددگار "۔ جو اس کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام آسکے۔ یا کم سے کم زبانی کلامی ہی تمہاری حمایت کا دم بھر سکے۔ پس تم اسی سے ڈرتے اور بچتے رہو جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں سب کچھ اور ہر کسی کی باگ ڈور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو فرضی اور خودساختہ سہارے تم لوگوں نے مختلف ناموں سے گھڑ رکھے ہیں وہ سب دھوکے کا سامان ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تمہارے کچھ بھی کام آنے والا نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جیسا کہ تم لوگ اپنی اس دنیاوی زندگی میں دیکھتے ہو اور کھلی آنکھوں دیکھتے ہو کہ جب تم لوگوں پر کوئی آفت آتی ہے تو نہ تم لوگ خود اس کا مقابلہ کرسکتے ہو اور نہ ہی تمہارا ایسا کوئی یار و مددگار اور حامی و ناصر ہوتا ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے اور تمہارے کچھ کام آسکے۔ سو اسی طرح قیامت کے روز نہ تم لوگ اس وحدہ لا شریک کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح بچ سکو گے اور نہ ہی تمہارے مزعومہ شفعاء و شرکاء میں سے کوئی ایسا ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں تمہاری حمایت اور نصرت کا دم بھر سکے سوائے اللہ پاک کی رحمت و عنایت اور اس کے لطف وکرم کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا ۔ فایاہ نسال التوفیق والسداد -
Top