Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ
وَمِنْ اٰيٰتِهِ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں الْجَوَارِ : کشتیاں فِي الْبَحْرِ : سمندر میں كَالْاَعْلَامِ : پہاڑوں کی طرح
اور اس کی نشانیوں میں پہاڑوں جیسے وہ (عظیم الشان) جہاز بھی ہیں جو چلتے ہیں سمندر میں
75 سمندروں میں چلتے بحری جہازوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس ۔ قادر مطلق ۔ کی نشانیوں میں سے پہاڑوں جیسے یہ عظیم الشان جہاز بھی ہیں جو رواں دواں ہیں سمندروں میں "۔ جو تمہاری ضروریات و حاجات کو لے کر مشرق و مغرب اور شمال و جنوب ہر طرف رواں دواں ہیں۔ سو جس پانی کی پشت پر ایک چھوٹا سا کنکر بھی نہیں ٹھہرسکتا اس پر ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیو پیکر جہاز سمندر کا سینہ چیر کر دوڑے پھر رہے ہیں۔ تو یہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کس کی تسخیر و کارستانی کا نتیجہ ہوسکتا ہے ؟ پس بڑی ہی ناانصافی اور نمک حرامی ہوگی اگر انسان اپنے اس ربِّ رحمن کے کرم کو بھول جائے جس نے یہ سب بحر و بر اس کے کام میں لگا رکھے ہیں۔ اور اس کو چھوڑ کر وہ دوسروں کے آگے جھکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس قادر مطلق ربِّ رحمن نے ایک طرف تو وہ تمام میٹریل اور خام مال پیدا فرمایا جو جہاز سازی کی اس صنعت میں کام آتا ہے اور دوسری طرف اس نے تمہیں عقل و فکر کی اس قوت اور جسمانی صحت و سلامتی کی اس صلاحیت اور استعداد سے نوازا جس سے کام لیکر تم لوگ ان دیوپیکر جہازوں کو تیار کرکے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ اور اس طور پر کہ اس سے تم لوگوں کے طرح طرح کے کاروبار وابستہ ہیں اور کتنوں کی روزی روٹی کا مدارو انحصار بھی اسی پر ہے۔ اور تیسری طرف اس نے اپنی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ سے بحر و بر کی اس پوری کائنات کو ایسے قواعد و ضوابط اور قوانین فطرت کا پابند بنادیا کہ یہ سب اس طرح تمہاری خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ سو اس سب کے باوجود اس خدائے مہربان سے منہ موڑنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر کھلی بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top