Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 4
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
لَهٗ : اس کے لیے ہی ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو کچھ آسمانوں میں ہے وَمَا فِي الْاَرْضِ : اور جو کچھ زمین میں ہے وَهُوَ الْعَلِيُّ : اور وہ بلند ہے الْعَظِيْمُ : بہت بڑا ہے
اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے اور وہی ہے بلند مرتبہ بڑی ہی عظمتوں والا
3 سب کچھ اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے "۔ خَلْقًا وَمِلْکًا وَمُلْکًا وَتَصَرُّفًا یعنی اس سب کو پیدا بھی اس وحدہ لاشریک نے تنہا اور بلاشرکت غیرے فرمایا ہے۔ اس سب کا مالک حقیقی بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حقیقی بادشاہی اور حکومت بھی اسی کی ہے۔ اور اس سب پر حکم و تصرف بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ پس ظاہری طور پر اور اسباب کے درجے میں جس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ سب اسی کی بخشش و عطا سے ملا ہوا ہے۔ لہٰذا اس پر اکڑنے اور اترانے کی بجائے اس کو اسی وحدہ لاشریک کی بخشش و عطا اور ابتلاء و آزمائش سمجھ کر اس کا حقِّ شکر ادا کرنے کی فکر وسعی کرنی چاہیئے تاکہ یہ نعمتیں اس کی رضا اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن سکیں۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ جن لوگوں نے " بلیوں والی سرکار " " کانواں والی سرکار " " سہیلی سرکار " " نویلی سرکار " وغیرہ وغیرہ ناموں سے طرح طرح کی من گھڑت سرکاریں بنا رکھی ہیں وہ سب کچھ ان لوگوں کا خود اپنا ساختہ پرداختہ، خود تراشیدہ اور بےحقیقت و بےبنیاد اور کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مخالف بھی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کی کتاب و سنت میں نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 4 اللہ پاک کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " وہ بڑی بلند مرتبہ اور نہایت ہی عظمت شان والی ذات ہے " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر قسم کی مماثلث و مشابہت سے بلند وبالا اور عظمتوں کا مالک ہے ۔ { لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ۔ پس نہ تو اسے کسی مخلوق سے تشبیہ دینا جائز ہے اور نہ اس کو کسی پر قیاس کرنا درست کہ وہ اس سب سے پاک وبالا ہے ۔ فتعالی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ۔ اس کی خلق و تدبیر اور اس کے حکم و تصرف میں کوئی بھی اور کسی بھی درجے میں اسکا شریک وسہیم نہیں ہے۔ کوئی بھی ہستی ایسی نہیں جو کسی بھی درجے میں اس کی کفو اور ہمسر ہوسکے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلیٰ وبالا ہے۔ وہ اگر کسی کو مہلت دیتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اس کے دائرئہ اختیار سے باہر ہوگئے بلکہ ایسا سب کچھ اس کے حلم و کرم کی بنا پر ہوتا ہے۔ پس وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Top