Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 6
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ
وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے بنالیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ دوست۔ سرپرست اللّٰهُ حَفِيْظٌ : اللہ تعالیٰ نگہبان عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَآ اَنْتَ : اور نہیں آپ عَلَيْهِمْ : ان پر بِوَكِيْلٍ : حوالہ دار
اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست (اور کارساز) بنا رکھے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہیں اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں1
8 مشرکین اور ان کے شرک کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست اور کارساز بنا رکھے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ سو ایسے لوگ جو ان کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر ان کو پوجتے پکارتے، ان کے لئے عبادت و بندگی کے مراسم بجا لاتے، ان کے آگے دست بستہ کھڑے ہوتے، ان کے آگے جھکتے ان کے لئے رکوع و سجود کرتے، ان کی خوشنودی کے لئے ان کے طواف کرتے، چکر لگاتے، پھیرے مانتے، بکرے چھترے کاٹتے، دیگیں پکاتے، ان کے لئے ڈالیاں بھیجتے اور ان کے آستانوں پر چادریں چڑھاتے، پھول نچھاور کرتے اور ان کی مالا جپتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے مشرک لوگ بڑا ہی غضب ڈھاتے اور اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ انکو اپنے اس جرم کا خمیازہ بہرحال بھگتنا پڑے گا اور بڑے ہی ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 9 مشرکین کو نہایت سخت وعید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے سب لوگ اللہ کی نگاہ میں ہیں "۔ پس ان کی ان شرکیات میں سے کوئی چیز بھی اس وحدہ لا شریک سے مخفی و پوشیدہ نہیں۔ سب کا ریکارڈ پوری طرح تیار ہو رہا ہے اور ان کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور جو ڈھیل ان کو ملی ہوئی ہے اس سے ان کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ یہ امہال و استدراج تو حکمت کا تقاضا ہے۔ تاکہ ایسے لوگ اپنا یہ ظرف فل کرلیں اور اپنے سارے ارمان نکال لیں۔ پس کبھی ان کو کامیابی کی راہ پر نہ سمجھنا ۔ { فَلا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ } ۔ (آل عمران : 188) ۔ سو اس میں مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور تنبیہہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے واضح دلائل کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست اور کارساز بنا رکھے ہیں اور وہ تمام تر تنبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ اور اس کی نگرانی میں ہیں۔ جونہی ان کی مدت مہلت پوری ہوجائے گی انکو دھر لیا جائے گا اور یہ قہر الہی کے پنجہ غیظ و غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے۔ پھر اس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہ ہوگی۔ سو یہ اس سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کرلیں ورنہ اس ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 10 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ انکے ذمہ دار نہیں ہیں کہ آپ ان سے حق بات کو منوا کر رہیں "۔ سو یہ نہ آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بس میں۔ آپ کے ذمے تو پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ آگے حساب لینا اور ہر ایک کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دینا ہمارا کام ہے ۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلّا الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ پس آپ ان کے پیچھے اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ { فَلا تَذْہَبْ نَفْسَکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ } ۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری تو پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ ﷺ نے کردیا۔ اور آگے بھی کرتے رہو۔ اور جو ایمان نہیں لائے ان کی پرسش انہی سے ہوگی نہ کہ آپ ﷺ سے۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغِ حق ہے۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اور آئندہ بھی کرتے رہیں۔ آگے لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا اور ان سے حق کو منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ اس کے ذمہ دار ہیں۔ تبلیغِ حق کے بعد جو لوگ نہیں مانیں گے وہ اپنی گمراہی کے ذمہ دار خود ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ -
Top