Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار
17 ہدایت سے سرفرازی کا دار و مدار انسان کی اپنی چاہت و طلب پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا "۔ یعنی جبراً وقہرا اور تکوینی طور پر۔ جیسا کہ کائنات کی بیشمار مخلوق جبری عبادت و فرمانبرداری میں مصروف ہے۔ سورج اپنے مدار میں لگاتار چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار میں۔ دریا و سمندر اور پہاڑو جنگل وغیرہ سب مخلوق اپنے اپنے دائرے میں پابند حکم خداوندی اور مصروف عبادت و بندگی ہے۔ سو اگر تمام انسانوں کو اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی میں اسی طرح لگا دیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کے لئے کیا مشکل تھا۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو حضرت انسان سے مطلوب ہی نہیں کہ اس میں امتحان اور ابتلاء و آزمائش کے معنیٰ ہی فوت ہوجاتے ہیں جو کہ اصل مطلوب ہے۔ نہیں تو پھر ثواب و عقاب کا ہے کا ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا جبری ایمان پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے یہ چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر انکے سامنے اپنی ہدایت رکھ دے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لیکر اپنی آزادیِ رائے کے ساتھ ہدایت کو اپنائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 18 ہدایت اللہ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے "۔ کہ وہی جانتا ہے کہ اس کے لئے کس کے دل میں طلب صادق موجود ہے اور کس کے دل میں نہیں۔ اور یہی چیز فیصلہ کی اساس و مدار ہے۔ اور اسی پر سارا انحصار ہے۔ اس لئے وہ اسی کے مطابق ہر ایک کو اپنی عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ ایسے طالب صادق ہی اس کی رحمت میں داخلے کے لائق ہوتے ہیں اور منکر اور ظالم و مشرک لوگ چونکہ طلب صادق کی اس دولت سے محروم ہوتے ہیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون عدل وانصاف کے مطابق نور حق و ہدایت سے محروم ہوتے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کے عدل و انصاف اور حکمت کے تابع اور اس کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 19 اور ظالموں کیلئے نہ کوئی یار ہے نہ مددگار : جو ان کی ایسے مشکل موقع میں کوئی مدد کرسکے یا ان کی زبانی کلامی ہی کچھ حمایت و ہمدردی کا اظہار کرسکتے۔ کیونکہ کارساز حقیقی ۔ جل جلالہ ۔ سے ان لوگوں نے منہ موڑ لیا تھا اور جن خود ساختہ " سرکاروں " اور من گھڑت " ہستیوں " کو انہوں نے اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے رکھا تھا ان میں ایسی کوئی اہلیت اور لیاقت سرے سے تھی ہی نہیں۔ تو پھر ان بدبختوں کا کوئی حمایتی اور مددگار ہو ہی کیسے سکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و شرک محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ظالموں یعنی کافروں اور مشرکوں کے لیے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ کوئی حمایتی و مددگار۔ سو نہ ان کے خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت اولیاء وشفعاء میں سے کوئی ان کے کچھ کام آسکے گا اور نہ ان کی کوئی جمعیت اور جماعت ان کے کچھ کام آسکے گی۔ سو ظالم اور مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محروم ہوں گے اور یہ اللہ پاک کی مشیت کا تقاضا ہے اور اس کی مشیت اس کے عدل وانصاف اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ظلم کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top