Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ؟ سو (واضح رہے کہ) کارساز تو اصل میں اللہ ہی ہے وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
20 کارساز سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی سب کا ولی و کارساز ہے "۔ وہی ہر کسی کی حاجت روائی کرتا اور کارسازی اور مشکل کشائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جنہوں نے اس کے سوا اور خود ساختہ کارساز و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ راہ حق و صواب سے ہٹے ہوئے اور گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ " ظالموں کیلئے نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ مددگار "۔ سو اس کے مقابلے میں اب یہاں پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ کارساز حقیقی سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس عقل و نقل اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اسی کو اپنا کارساز سمجھے۔ اپنے سارے معاملات اسی کے حوالے کردے اور اسی کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے۔ اس کے سوا باقی تمام اوہام و خرافات ہیں۔ جو نہ کسی نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ انکو اپنا ولی اور کارساز قرار دینا اپنے لیے دارین کی ہلاکت و محرومی اور ہولناک خسارے کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 21 زندگی اور موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جو زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب احیاء و اماتت یعنی زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اور ہر چیز پر پوری قدرت رکھنا اسی کی شان اور اسی کا کام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر کارساز اور حاجت روا و مشکل کشا اس کے سوا اور کون اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ سو کارساز حقیقی سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور وہ ایسا کارساز و حاجت روا ہے کہ بندوں کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر ہی ان کی حاجت روائی و کارسازی فرماتا ہے۔ ان کی پیدائش کے وقت سے بلکہ اس سے بھی پہلے سے۔ اور ان کی پوری زندگی میں اور اس کے بعد بھی اس کی کارسازی فرماتا ہے۔ آخر ہم جو پیدا ہوئے بطن عدم سے احاطہ وجود اور منصہ شہود پر نمودار ہوئے۔ اور جسم کے اندر اور اس کے باہر جو بےحد و حساب نعمتوں سے مستفید ومالا مال ہوئے اور لگاتار ہو رہے ہیں۔ آخر اس کیلئے ہم نے اس کے حضور کونسی درخواست پیش کی تھی ؟ اور ایسی کوئی اپیل و درخواست ہم کر ہی کس طرح سکتے ہیں ؟ کہ ان لامحدود نعمتوں کا سوال اس سے کرسکیں جن کا ہمیں نہ کوئی علم ہے نہ احاطہ۔ سو جس کارساز مطلق کی کارسازی کی یہ عظیم الشان صورتیں انسان کے وجود کے اندر اور اس کے باہر ہر چہار سو پھیلی بکھری ہیں اس کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا کارساز سمجھنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی اور اندھیر نگری ہے۔ اور کس قدر ہولناک خسارے کا سودا ہے ؟ خواہ وہ خودساختہ اور اپنے ہاتھوں کا گھڑا ہوا کوئی بت ہو یا کوئی اور فرضی اور خودساختہ معبود کہ ایسی تمام چیزیں سراسر بےبنیاد اور بےحقیقت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Top