Tafseer-e-Madani - Al-Maaida : 94
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ایمان والو لَيَبْلُوَنَّكُمُ : ضرور تمہیں آزمائے گا اللّٰهُ : اللہ بِشَيْءٍ : کچھ (کسی قدر) مِّنَ : سے الصَّيْدِ : شکار تَنَالُهٗٓ : اس تک پہنچتے ہیں اَيْدِيْكُمْ : تمہارے ہاتھ وَرِمَاحُكُمْ : اور تمہارے نیزے لِيَعْلَمَ اللّٰهُ : تاکہ اللہ معلوم کرلے مَنْ : کون يَّخَافُهٗ : اس سے ڈرتا ہے بِالْغَيْبِ : بن دیکھے فَمَنِ : سو جو۔ جس اعْتَدٰي : زیادتی کی بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد فَلَهٗ : سو اس کے لیے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اللہ ضرور تمہاری آزمائش کرے گا کچھ ایسے شکاروں کے ذریعے، جو تمہارے ہاتھوں کی پہنچ، اور تمہارے نیزوں کی زد میں ہوں گے، تاکہ اللہ یہ دیکھے کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے، پس جس نے اس (تنبیہ) کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا، تو اس کے لئیے ایک بڑا اور دردناک عذاب ہے،2
239 اہل ایمان کے لئے ایک آزمائش کا اعلان : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور تمہاری آزمائش کرے گا کچھ خاص شکلوں کے ذریعے۔ یعنی تم لوگوں کی آزمائش ضرور کریگا تاکہ کھرے کھوٹے میں فرق وتمیز ہوسکے۔ سو یہ بھی اس ارحم الراحمین کی رحمت بیکراں کا ایک مظہر عظیم ہے کہ اس نے اس امتحان کے بارے میں پیشگی ہی بتادیا تاکہ اہل ایمان اس کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوجائیں۔ اور وہ اس امتحان میں کامیابی سے ہم کنار و سرفراز ہوں کہ آزمائش بہرحال آزمائش ہوتی ہے۔ اور شکار سے ممانعت کی یہ آزمائش بعض اعتبارات سے بڑی سخت بھی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ شکار بالعموم انسان کو اور خاص طور پر عربوں کو بہت مرغوب تھا۔ اور خاص کر سفر کے دوران میں جبکہ انسان کو خاص طور پر زیادہ ضرورت بھی ہوتی ہے۔ تو ایسے میں اگر شکار اس کثرت اور اتنی سہولت اور اس قدر آسانی سے مل جائے تو اس سے بچنا اور آزمائش میں پورا اترنا کوئی آسان بات نہیں۔ سو ایسی آزمائش میں پورا وہی اتر سکتے ہیں جو ایمان و یقین کی قوت میں ایک خاص امتیازی شان رکھتے ہوں۔ اور جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے خاص عنایت سے سرشار ہوں۔ اور یہ ممانعت چونکہ اصل میں کی ہی اسی لیے گئی تھی کہ لوگوں کے ایمان اور تقویٰ کو جانچا اور پرکھا جائے۔ اس لیے اس سے متعلق پیشگی اس طرح خبردار کیا گیا کہ آگے تم لوگوں کو ایسے مواقع پیش آئیں گے کہ تم لوگ احرام باندھے ہوئے ہو گے اور مختلف قسم کے شکار تمہارے اردا گرد اور تمہاری پہنچ اور دسترس میں ہوں گے مگر تم نے ان کا شکار نہیں کرنا۔ پس تم لوگ محتاط رہنا اور ایسا نہ ہو کہ تم لوگ اس طرح پھسل جاؤ جس طرح یہود پھسل گئے تھے۔ 240 ابتلاء و آزمائش کیلئے قدرت کی طرف سے خاص ماحول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مختلف قسم کے شکار اس طرح تمہاری دسترس میں ہویں گے مگر تمہیں احرام کی وجہ سے ان کا شکار کرنا جائز نہ ہوگا۔ علامہ ابن کثیر اور قاضی بیضاوی وغیرہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا عمرہ حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا جبکہ چرند و پرند وغیرہ مختلف شکار حضرات صحابہ کرام ؓ کے پاس خود جمع ہوجاتے۔ اور ان کے خیموں کے اندر داخل ہوجاتے۔ اور اس قدر کثرت سے کہ اس کی اس سے پہلے کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ وہ اگر چاہتے تو ان کو تیروں اور نیزوں سے شکار کرلیتے۔ بلکہ انکو ہاتھوں سے یونہی پکڑ لیتے۔ مگر انہوں نے اس کے باوجود ایسے نہیں کیا اور آزمائش کے دور میں کوئی شکار نہیں کیا۔ حالانکہ اس دوران نیل گائے اور دوسرے جنگلی جانوروں کے ریوڑوں کے ریوڑ اور پرند چرند ان کے خیموں کے اندر خود بڑی کثرت کے ساتھ پہنچ رہے تھے۔ سو شکار کی ممانعت کا یہ واقعہ جو حضرات صحابہ کرام ؓ کی آزمائش کیلئے پیش آیا تھا بنی اسرائیل کے اصحاب سبت یعنی ہفتے کے دن والے لوگوں کے قصے سے بالکل مشابہ ہے۔ ان دونوں میں ابتلاء و آزمائش کے دو نمونے پیش آئے اور دونوں کے نتائج دو مختلف صورتوں میں سامنے آئے۔ اَصحاب سبت والوں کو مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا مگر وہ صبر نہ کرسکے اور انہوں نے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے کام لینا شروع کیا اور آزمائش میں ناکام رہے۔ جبکہ حضرات صحابہ کرام ؓ اس آزمائش میں پورے اترے حالانکہ شکار ان کی اس قدر پہنچ میں تھے کہ وہ اگر چاہتے تو ان کو نیزوں بھالوں کے علاوہ خود اپنے ہاتھوں سے یونہی پکڑ لیتے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے کوئی شکار نہیں کیا۔ (صفوۃ، محاسن، اور بیضاوی وغیرہ) ۔ سو اس طرح وہ حضرات اس آزمائش میں پورے اترے جو ان کے صدق و اخلاص اور قوت ایمان و یقین کا ایک واضح مظہر اور کھلا ثبوت ہے ۔ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم وَعَنَّا مَعَہُم اَجْمَعِیْنَ- 241 علم بمعنی اظہار وتمیز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھے اور اس طرح کہ کھرا کھوٹا خود نکھر کر اور کھل کر سامنے آجائے۔ پس { لِیَعْلَم } کا کلمہ یہاں پر اپنے معروف معنیٰ میں نہیں کہ " اللہ جانے "۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے، اور پوری طرح جانتا ہے۔ اس کا علم کسی امتحان اور آزمائش پر موقوف نہیں۔ بلکہ اس لفظ کا معنیٰ یہاں پر دیکھنا اور واضح کرنا ہے۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اس ابتلاء و آزمائش کے ذریعے یہ امر ظاہر اور واضح کر دے کہ کون بن دیکھے اللہ سے ڈرتا اور اس کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی سے بچتا ہے اور کون اصحاب سبت کی طرح حیلوں بہانوں سے کام لیکر خلاف ورزی کا ارتکاب کرتا ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جَلَّ وَعَلَا ۔ سو اس آیت کریمہ میں قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مواقع کی طرح علم بمعنی اظہار اور تمیز کے ہے کہ اللہ پاک کا طریقہ یہی ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو سب کے سامنے کھول دیتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ کون اس کے حکم کی پابندی کرتا ہے اور کون اصحاب السبت کی طرح بہانہ بازی اور حیلہ سازی سے کام لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 242 بن دیکھے خدا سے ڈرنا ہی صلاح و فلاح کی اصل بنیاد ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ دیکھے کہ کون اللہ سے ڈرتا ہے بن دیکھے۔ سو بن دیکھے خدا سے ڈرنا اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچنا ہی اساس و بنیاد ہے صلاح و فلاح کی اور اسی پر مدارو انحصار ہے سارے معاملے کا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے وہ ان ظاہری اور ناسوتی آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ آنکھیں محدود و مخلوق اور عاجز و قاصر ہیں۔ اس کو صرف دل کی آنکھوں ہی سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو ماننے کے لئے دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اس کو بالغیب یعنی بن دیکھے ہی مانا جائے۔ 243 حدود اللہ سے تجاوز باعث عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا تو اس کے لیے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ پس حدود اللہ سے تجاوز سے ہمیشہ بچنے اور محفوظ رہنے کی فکر کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں سے تجاوز کرنے والوں کیلئے بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ آخرت میں کہ ایسا شخص امتحان میں ناکام ہوگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی پیروی نہیں کی۔ اور اس کے عمل سے ثابت ہوگیا کہ وہ بن دیکھے خدا سے نہیں ڈرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدوں کی پابندی اور پاسداری ہی پر سارے معاملے کا دار و مدار ہے۔ اور اس کی حدود کا التزام اور ان کی پابندی ہی وہ امر ہے جس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے کہ اسی خالق ومالک کو اس کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کیلئے حدیں مقرر فرمائے۔ اور اس کی مقرر فرمودہ حدود ہی انسان کیلئے حقیقی فوز و فلاح کی ضامن و کفیل ہیں اور ہوسکتی ہیں کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو خالق ومالک ہونے کے ساتھ ساتھ حاکم و حکیم اور رحمن و رحیم بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Top