Tafseer-e-Madani - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ ان کو دنیا ہی میں عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب مقرر ہے ہی
[ 11] جلا وطنی یہود بنو نضیر کیلئے ایک رعایت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہودی بنی نضیر کے لئے اخراج و جلاطنی کی سزا ایک رعایت تھی جو ان کو دی گئی، ورنہ اگر ایسے نہ ہوتا تو اللہ ان کو دنیا میں کوئی ایسا سخت ہی عذاب دے دیتا، جو اس سے کہیں بڑھ کر سخت اور رسوا کن اور ہولناک ہوتا، جیسے قتل، اور قید، وغیرہ۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے ساتھ بدر میں ہوا، اور یہود بنو قریظہ کے ساتھ مدینہ میں ہوا، [ المراغی، المحاسن، الکازن، الصفوۃ وغیرہ ] سو یہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ رعایت فرما دی کہ ان کو صرف جلاوطنی کی سزا دی اور بس، تاکہ اس طرح ان کو تنبیہ بھی ہوجائے، جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت موجود ہو وہ اس سے اپنے لئے سامان عبرت و بصیرت حاصل کرسکیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان پر اس دنیا ہی میں کوئی ایسا عذاب بھیج دیتا، جس سے ان کا قصہ ہی تمام ہوگیا ہوتا، جیسا کہ عاد وثمود اور فرعون وغیرہ کے ساتھ اس سے پہلے ہوچکا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس پر ان لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، اور حق کی طرف رجوع کرکے، اور اس کو اپنا کر ان کو اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرنا چاہیے ورنہ یہ تو اس سے بھی کہیں زیادہ عذاب اور سزا کے مستحق تھے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ [ 12] منکروں کیلئے آخرت میں دوزخ کا عذاب، والعیاذ باللّٰہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کیلئے اسی دنیاوی عذاب اور جلاوطنی پر بس نہیں، بلکہ ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب مقرر ہے، یعنی اس دنیاوی ذلت و خواری اور جلاوطنی سے ان کے عذاب اخروی میں کوئی فرق نہیں آیا، بلکہ وہ بدستور ان کو ہونا ہے، کہ ان کے جرائم بہت سنگین ہیں، کہ انہوں نے نور اسلام کو بجھا دینے کی کوشش میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف چڑھائی پر اکسایا ابھارا، نبیء اکرم ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا، والعیاذ باللّٰہ، انہوں نے غدرو بد عہدی سے کام لیا، اور حق کا جاننے کے باوجود انہوں نے جھٹلایا وغیرہ، ذالک، سو اگر انہوں نے اس تنبیہ سے فائدہ اٹھایا، حق کی طرف رجوع کرکے اپنی اصلاح کا سامان نہ کیا، تو معاملہ یہیں ختم نہیں ہوجائے گا، بلکہ آخرت میں ان کو دوزخ کا سخت عذاب ملنے والا ہے، جو ساری کسر پوری کرے گا، کہ آخرت کا عذاب بڑا ہی برا، اور انتہائی ہولناک ہے، کاش کہ یہ لوگ جان لیں چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ۔ { کذلک العذاب ط ولعذاب الآخرۃ اکبر م لوکانوا یعلمون } [ القلم : 33 پ 29] یعنی آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور پھر ان کے ہولناک انجام کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا حشر اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے، کہ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی ہی سخت پاداش میں پکڑنے والا ہے، پس اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے اپنے رویے و انجام اور اپنے حال و مال کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں۔ اور اس کے مطابق اپنا راستہ خود اختیار کرلیں، قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھوں سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کیلئے تڑپنا، پھڑکنا، اور ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
Top