Tafseer-e-Madani - At-Taghaabun : 11
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
مَآ اَصَابَ : نہیں پہنچتی مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی مصیبت اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : مگر اللہ کے اذن سے وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ : اور جو کوئی ایمان لاتا ہے بِاللّٰهِ : اللہ پر يَهْدِ قَلْبَهٗ : وہ رہنمائی کرتا ہے اس کے دل کی وَاللّٰهُ : اور اللہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ ہی کے اذن (و حکم) سے اور جو کوئی (سچے دل سے) ایمان رکھتا ہوگا اللہ پر تو اللہ ہدایت (کے نور) سے نواز دے گا اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے
22 ۔ ہر مشکل و مصیبت اللہ تعالیٰ ہی کے اذن کے تابع، سبحانہ و تعالیٰ : سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور حکم کے تابع ہوتی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ ہی کے اذن سے " خواہ وہ کسی کی موت کی شکل میں ہو، یا جان و مال کے نقصان، یا کسی صدمہ و بیماری وغیرہ کی کسی اور صورت میں کہ نکرہ تحت النفی کا یہ عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس خدشہ و دغدغہ کو دور فرما دیا گیا جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے کہ اگر ہم نے آخرت کے لیے کوئی قربانی دی تو ہمیں فلاں اور فلاں قسم کی مصیبت و مشکل پیش آسکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے ایسے کسی وسوسے کو اہمیت نہ دو کہ کل کوئی مصیبت پیش آگئی تو کیا ہوگا ؟ کیونکہ جس مصیبت نے آنا ہوا وہ بہرحال آکر رہے گی، اور جس نے نہیں آنا وہ کبھی نہیں آئے گی، تو پھر اس طرح کے مخاوف اور خطرات سے ڈرنے کی کیا ضرورت ؟ سو اس سے ایسے خدشات و خطرات کا ازالہ فرما دیا گیا پس اس سے انسان کو سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوجاتی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ بہرکیف یہاں واضح طور پر ارشاد فرما دیا گیا کہ نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم و اذن سے، کہ اس وحدہ لاشریک کی پیدا فرمودہ اس کائنات میں حکم و تصرف بہرحال اسی وحدہ لا شریک کا چلتا ہے اور جب سب کچھ اسی کے اذن و حکم کے تابع ہے تو پھر تم ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کیا کرو، زندگی کے مصائب میں گھبرانے کی بجائے اسباب کے درجہ میں اپنی طرف سے پوری محبت کرو، پھر نتائج اسی کے حوالے کر کے اسی کے سہارے و اعتماد پر جینے کی خو کو اپناؤ اور ہمیشہ اس سے امن و عافیت اور خیر و برکت کی دعا درخواست کرتے رہا کرو، اور اسی کے حکم و قضا پر راضی رہا کرو، جل وعلا شانہ۔ اللہ توفیق بخشے آمین۔ سو ایمان والوں کو اس بات پر مطمئن رہنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے حکم کی تعمیل میں کریں گے وہ ان کے لیے کسی ایسی آزمائش کا سبب نہیں بنے گا جو ان کی قوت برداشت سے باہر ہو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قوتوں اور صلاحیتوں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے وہ کسی پر اس کی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، جیسا کہ اس بارے میں اس کا صاف اور صریح ارشاد موجود ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ 286 پ 3) یعنی اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، سبحانہ وتعالی، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، جل جلالہ، وعم نوالہ، وعز سلطانہ۔ 23 ۔ نور ایمان، ہدایت قلب کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس میں ایمان والوں کے لیے ایک مژدہ جانفزا ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہوگا اللہ اس کے دل کو ہدایت سے نوازے گا، جس سے اس کو زندگی کے ہر موقع اور ہر موڑ پر راہنمائی ملے گی اور اس کو راہ حق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہوگی، کہ دل سلطنت جسم کا حاکم و فرماں روا ہے جب اس کو ہدایت اور نور حق کی روشنی مل گئی تو باقی سب کام خود بنتے جائیں گے، سو ایسے شخص کو ہر فیصلہ کن موقع و مقام پر صحیح راہ کو اپنانے کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے، اور نعمت اور مصیبت کی ہر حالت اس کے لیے خیر ہی خیر بن جاتی ہے، اللہ پاک اپنے کرم سے ہم کو ایسا ہی پیکر صدق و صفا بننا نصیب فرمائے آمین۔ سو اس ارشاد عالی میں اللہ کی راہ میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والوں کو تسلی دی گئی ہے اور ان کو اس مژدہ جانفزا سے نوازا گیا کہ اگر تم لوگ اپنے ایمان و یقین میں پختہ کار ہوگئے تو اللہ تمہارے دلوں کی راہنمائی فرمائے گا، اور ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں راہ حق میں پیش آنے والی کسی ابتلاء و آزمائش سے تمہارا حوصلہ پست نہیں ہوگا، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان اور انقلاب آفرین دولت ہے کہ اس کے بعد مومن صادق کے لیے کسی خسارہ و ناکامی کا کوئی سوال ہی نہیں، بلکہ اس کے بعد اس کی ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے، اللہ نصیب فرمائے اور علی وجہ الکمال والتمام نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔ 24 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ پس وہ ہر کسی کے ساتھ وہی معاملہ فرماتا ہے اور فرمائے گا جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا ہے، اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور نہ کسی کی ہے نہ ہوسکتی ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس تم ہمیشہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور درست رکھنے کی فکر و کوشش کیا کرو، خاص کر اپنے باطن اور اپنی نیتوں کے اعتبار سے کہ اساس و بنیاد ہر صلاح کی یہی ہے اور اجر وثواب اور بخشش و عطا کا مدارو انحصار اسی پر ہے، اللہ توفیق نصیب فرمائے آمین۔ سو اس ارشاد میں اہل کفر و باطل کے لیے تہدید و تذکیر بھی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ سے مخفی نہیں، بلکہ سب کچھ پوری طرح اس کے علم میں ہے، سو ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور دوسری طرف اس میں اہل ایمان کے لیے تسکین و تسلی کا سامان بھی ہے کہ تم لوگ راہ حق میں جو قربانیاں دے رہے ہو وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، وہ تم لوگوں کو ان کے اجر وثواب سے نوازے گا، اور کئی گنا بڑھا کر لوٹائے گا، اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (التوبہ 120 پ 11) پس تم ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرو، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Top