Tafseer-e-Madani - At-Taghaabun : 7
زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ
زَعَمَ : دعوی کیا الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا : ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا اَنْ لَّنْ : کہ ہرگز نہ يُّبْعَثُوْا : اٹھائے جائیں گے قُلْ : کہہ دیجئے بَلٰى وَرَبِّيْ : کیوں نہیں ، میرے رب کی قسم لَتُبْعَثُنَّ : البتہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ : پھر البتہ تم ضرور بتائے جاؤ گے بِمَا عَمِلْتُمْ : ساتھ اس کے جو تم نے عمل کیے وَذٰلِكَ : اور یہ بات عَلَي : پر اللّٰهِ يَسِيْرٌ : اللہ (پر) بہت آسان ہے
کافر لوگوں نے بڑے دعوے سے کہا کہ ان کو ہرگز دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا (سو ان سے) کہو کہ کیوں نہیں ؟ میرے رب کی قسم تم سب ضرور بالضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے پھر تم کو ضرور بتا دئیے جائیں گے وہ سارے کام جو تم لوگ کرتے رہے تھے اور یہ اللہ کے لئے بہت آسان ہے1
13 ۔ اثبات قیامت قطعیت کے ساتھ : سو انکار قیامت سے متعلق منکرین کے زعم باطل کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ کہو ہاں قسم ہے میرے رب کی تم لوگوں کو ضرور بالضرور اٹھایا جائے گا، یعنی جب حضرت خالق جلد مجدہ نے تمہیں اس کائنات کی سب سے اشرف و اعلی اور سب کی مخدوم ومطاع مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے اور تمہیں عقل و فکر کے بےمثال جوہر سے نوازا ہے تو پھر یہ کس طرح اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری پیدائش بےمقصد اور تمہارا وجود عبث و بےکار ہو ؟ اور یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز تو بامقصد ہو، مگر اس کا مخدوم ومطاع یہ انسان بےمقصد ہو ؟ اور یہ یونہی بےمقصد زندگی گزار کر کیڑے مکوڑوں کی طرح مر گل کر ختم ہوجائے گا ؟ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ (المومنون 115، 116 پ 18) یعنی " کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور کیا تمہیں ہماری طرف واپس نہیں لوٹایا جائے گا ؟ سو بڑا ہی بلند وبالا ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے، کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جو کہ رب ہے عرش کریم کا "۔ سبحانہ وتعالی۔ سو منکرین قیامت نے " لن یبعثوا " کے کلمات تاکید کے ذریعے جس زور اور قوت کے ساتھ بعث بعد الموت کا انکار کیا تھا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر زور و قوت کے ساتھ اس کے اثبات کا ذکر فرمایا گیا ہے، پھر " بلی و ربی " کی اس قسم کے اندر دو عظیم الشان پہلو پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ رب کائنات کی ربوبیت کی جو شانیں اس کائنات کے گوشے گوشے میں پائی جاتی ہیں وہ اس بات کو واجب کرتی ہیں کہ حضرت خالق جل مجدہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں فرمائے گا، کہ یہ اس کی شان ربوبیت اور عدل و حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے، اور دوسرا پہلو اس میں اس تاکید کا یہ ہے کہ یہ پیغمبر ہی کی شان ہے اور ہوسکتی ہے کہ وہ جو ثبوت قیامت کے بارے میں اس طرح قسم کھا کر اعلان کرے، کیونکہ اس بات علم قطعی پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ فلسفی کی بات جو محض عقلی دلائل پر مبنی ہوتی ہے وہ ہوسکتا ہے اور ہونا چاہیے، کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکتی، اس لیے پیغمبر کی زبان سے " قسمیہ " الفاظ میں کہلوایا گیا کہ قیامت کی وہ گھڑی بہرحال اور قطعی طور پر آکر رہے گی اور یہی تقاضا ہے عقل و نقل دونوں کا، اور حضرت خالق حکیم کے عدل و انصاف کا اور انسان کا دنیا و آخرت دونوں میں، اللہ تعالیٰ قیامت کے اس یوم حساب کے لیے تیاری کی توفیق بخشے اور اس یوم عظیم میں کامیابی سے سرشار سرفراز فرمائے، آمین ثم آمین، اللہ تعالیٰ اس یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔ 14 ۔ روز قیامت کی جوابدہی کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگوں کو خبر کردی جائے گی تمہارے ان تمام کاموں کی جو تم لوگوں نے زندگی بھر کیے ہوں گے، یعنی صرف اٹھنا ہی نہیں ہوگا بلکہ اٹھنے کے بعد اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور پورا بدلہ بھی پانا ہوگا، کیونکہ رب کی شان ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ نیکوں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہ فرمائے، بلکہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کا پورا پورا صلہ و بدلہ دے اور بدکاروں کو ان کی برائی کی قرار واقعی سزا دے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں اور یہ قیام قیامت کے بغیر ممکن نہیں، لہذا قیامت کا قائم ہونا عقل و نقل ہر اعتبار سے ضروری ہے، ورنہ زمین و آسمان کے اس کارخانہ ہست و بود کی تخلیق اور اس کا وجود عبث اور بیکار ہو کر رہ جائے گا جو اس خالق حکیم کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالی، اللہ تعالیٰ اس یوم حساب کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے اور اس کے لیے تیاری کرنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔ 15 ۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے : کہ اس کی قدرت کی کوئی حد نہیں اس کی شان " علی کل شیء قدیر " کی شان ہے کیس بھی امر کے لیے اس کا صرف ارادہ چاہیئے اور بس، کہ اس کی شان کن فیکون کی ہے، سبحانہ وتعالی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (یس 82 پ 23) یعنی اس کی شان یہ ہے کہ جب اس کو کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے صرف اتنا فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ کام ہوچکا ہوتا ہے، سو اس کے لیے سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں جمع کردینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہاں پر اسباب و وسائل کی ضرورت و احتیاج کا کوئی سوال نہیں، بلکہ صرف ارادہ و اشارہ کی دیر ہوتی ہے، محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس سے یہ سب کے سب نکل کر میدان حشر میں موجود ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ (النازعات 13، 14 پ 30) سو وہ غیر محدود علم اور غیر محدود قدرت کا مالک ہے، سبحانہ وتعالی۔ پس جو لوگ اللہ پاک سبحانہ کی قدرت کو اپنے اوپر قیامت کر کے بعث بعد الموت کے اس کام کو ناممکن سمجھتے ہیں وہ اس ان کا اپنا قصور ہے کہ مخلوق میں سے کسی کے لیے ایسا کرنا واقعی بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ ان کا علم بھی ناقصد و محدود اور ان کی قدرت میں ناقص و محدود، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا نہایت آسان ہے کہ اس کا علم بھی کامل و لامحدد اور اس کی قدرت بھی کامل و لامحدود ہے، سبحانہ و تعالی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اس یوم حساب میں کامیابی و سرخروئی نصیب فرمائے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر قائم رکھے اور ہر قسم کے زیغ و ضلال اور غفلت و لاپرواہی سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین یا من بیدہ ملکوت کل شی قدیر وھو یجیر ولا علیہ ،
Top