Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
اور تم لوگ خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کو سب معلوم ہے کیونکہ) وہ تو یقینی طور پر دلوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے
17 اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی بات کو خواہ چھپا کر کہو یا اعلانیہ طور پر وہ سب کو ایک برابر جانتا ہے کہ بیشک اللہ دلوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے۔ اس لئے وہاں چرب لسانی ‘ یا چکنی چپڑی باتیں کرنے سے کام نہیں بن سکے گا ‘ بلکہ اس سے بنے گا کہ اپنے اس خالق ومالک سے اپنے دلوں کی دنیا اور اپنی نیتوں کے معاملے کو صحیح اور درست رکھا جائے ‘ تبارک و تعالیٰ ۔ سو کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اس کی مخفی باتیں اللہ سے مخفی اور پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ پس اس ارشاد میں ایک طرف تو منکرین کیلئے تنبیہہ و تہدید ہے کہ کہیں تم لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ خدا سے مخفی ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں تمہاری ایک ایک حرکت اس کے علم میں ہے۔ پس تم لوگوں کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اس لئے تم لوگ اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے اور اگر اس کی بجائے تم لوگ اپنے کفر و انکار ‘ تمردو سرکشی ہی میں پڑے رہے تو پھر اپنے آخری انجام اور ہولناک بھگتان کیلئے تیار رہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسری طرف اس ارشاد ربانی میں ان مومنین صادقین کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان بھی ہے جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے کہ تم لوگ راہ حق میں اور اپنے رب کی رضا و خوشنودی کیلئے جو بھی کچھ کرتے ہو خواہ وہ اعلانیہ ہو یا پوشیدہ وہ سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ وہ اس کے اجر و صلہ سے تم لوگوں کو نوازے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Top