Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے رام کردیا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو پس تم لوگ چلو (پھرو) اس کے کندھوں پر اور کھاؤ (پیو) اس (وحدہ لاشریک) کے دیئے ہوئے میں سے اور (یاد رکھو کہ آخرکار تم سب کو) بہر حال اسی کے حضور جانا ہے دوبارہ زندہ ہو کر
19 بچھونہ ارضی میں سامان غور و فکر کی طرف راہنمائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک وہی ہے جس نے تمہارے لئے رام کردیا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو۔ جس کے باعث تم لوگ اس کی خیرات و برکات سے ہمیشہ اور لگاتار مستفید ہوتے اور اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ‘ ذلول کے اصل معنی مطیع و منقاد کے آتے ہیں اس لئے ہم نے رام کرنے کے لفظ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ‘ واللہ الموفق اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکتم کا ذکر تھا اور اب اس سے زمین کے اندر پائے جانے والے آثار رحمت و ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے ‘ جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پائے جاتے ہیں۔ سو اس بچھونہ ارضی اور اس کائنات خداوندی میں بڑے سامان ہائے عبرت و بصیرت ہیں غور و فکر سے کام لینے والوں کیلئے۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہی کہ لوگ صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں۔ وہ یا تو اس کے مادی پہلو کو دیکھتے ہیں کہ اس میں موجود ان گونا گوں نعمتوں سے فائدہ کس طرح اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کس طرح حاصل کریں ‘ اور بس۔ اور یا وہ اس کے چمکتے دمکتے عظیم الشان ظواہر و مظاہر ہی میں الجھ کر اور اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ اور وہ یہ سوچتے ہی نہیں کہ یہ سب کچھ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے اور اس کا ہم پر کیا حق ہے۔ اور وہ حق کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے ؟ سو اس اہم پہلو سے دنیا غافل ہے۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ 20 زمین میں چلنے پھرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں پر : اور فائدے اٹھاؤ اس میں موجود راستوں سے ‘ خواہ وہ بحری ہوں یا بری ‘ ریگستانی ہوں یا کوہستانی ‘ ہوائی ہوں یا فضائی ‘ سب سے استفادہ کرو ‘ جیسا کہ تم لوگ دن رات ایسا کرتے اور اس کے کونے کونے سے طرح طرح کے فوائد اور منافع سمیٹتے ہو ‘ اصل میں لفظ مناکب استعمال ہوا ہے جو کہ جمع ہے منکب کی جس کے معنی کندھے اور مونڈھے کے آتے ہیں ‘ پس یہ دراصل کنایہ ہے انتہائی خضوع سے ‘ کیونکہ جو جانور انتہائی خضوع کا اظہار کرتا ہے وہ اپنی گردن اپنے مالک کے آگے ڈال دیتا ہے ‘ تاکہ وہ اس کی گردن پر پاؤں رکھ کر اس پر سوار ہوجائے ‘ سبحان اللہ زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس ضعیف البیان انسان کیلئے اس طرح مسخر و تابع کردینا ‘ اور مطیع و منقاد بنادینا ‘ کس قدر عظیم الشان مظہر ہے حضرت حق جل شانہ کی بےپایاں قدرت اور عظیم الشان رحمت کا ‘ سبحانہ و تعالیٰ پھر بھی جو انسان غفل ہے اپنے اس خالق ومالک کی قدرت اور اس کی رحمت و عنایت سے ‘ اور اس سے منہ موڑ کو وہ دوسروں کے آگے جھکتا ہے ‘ اس سے بڑھ کر ظالم ‘ بےانصاف اور ناشکرا اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز مناکب کے اس لفظ میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ زمین کی اس ناقہ ذلول پر تم لوگوں کی حیثیت ان جوؤں کی سی ہے جو اونٹنی کے کندھوں پر رینگ رہی ہوتی ہیں۔ تو پھر تکبر کا ہے کا ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی بندگی سے سرفراز و سرشار ہمیشہ رکھے اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ و یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ 21 یوم نشور کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے سب کو تاکہ وہاں ہر کوئی پہنچ کر ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ اور بدلہ پاس کے ‘ اچھے کا اچھا اور برے کا برا ‘ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں ‘ پس کہیں تم لوگ اس دنیا کی چمک دمک اور اس کی عارضی اور فانی لذتوں میں کھوکر اپنے اس انجام کو ‘ اور اس کیلئے تیاری کو بھول نہیں جانا کہ اس طرح تم ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاؤ ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جس خدا نے تمہیں طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے ‘ اور تمہارے کسی استحقاق کے بغیر نوازا ہے۔ وہ لازماً تم سے ان کے بارے میں پوچھے گا کہ تم نے ان کا کیا حق ادا کیا ؟ پس اس کو بھولنا نہیں۔ سو تمہارے خالق ومالک نے تمہیں اس دنیا میں شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا کہ تم جو مرضی کرتے رہو اور تمہاری کوئی پوچھ نہ ہو کہ یہ بات عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو سب حاصل ہوں مگر اس سے ان کے بارے میں کبھی کوئی پرسش نہ ہو اور وہ مسؤلیت و پرسش سے بری اور آزاد ہو۔ پس تم لوگ اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ہمیشہ یاد اور اپنے پیش نظر رکھو کہ ایک دن تم نے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اٹھ کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے اور وہاں پر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Top