Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور بلاشبہ جھٹلایا (حق اور حقیقت کو) ان لوگوں نے بھی جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے پھر (دیکھ لو) کیسا تھا میرا عذاب ؟
23 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے گزشتہ زمانے کے منکرین و مکذبین کے انجام سے درست عبرت و بصیرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو یہ تاریخی ثبوت کا حوالہ ہے کہ قوموں کے جرائم پر آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے اور فی الواقع اور بالفعل آچکا ہے ‘ پس جو انجام کل کے ان منکروں اور سرکشوں کا ہوچکا ہے ‘ وہ آج کے ان منکروں اور سرکشوں کا بھی ہوسکتا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عام ہے ‘ بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ‘ بس آج کے ان منکروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ‘ قبل اس سے کہ یہ بھی اسی طرح کے کسی ہولناک انجام سے دوچار ہوں ‘ جس سے وہ لوگ ہوچکے ہیں والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے بھی جھٹلایا حق اور حقیقت کو جو دور حاضر کے ان منکروں سے پہلے گزر چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ کیسا ہوا میرا عذاب۔ سو آخرکار ان پر وہ عذاب آکر رہا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پس دور حاضر کے ان منکرین کو ان کے انجام سے سبق لینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Top