Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے پیدا فرمایا موت اور حیات کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کا کام سب سے اچھا ہے اور وہی ہے سب پر غالب بڑا ہی بخشنے والا (اور نہایت درگزر کرنے والا)2
3 سلسلہ موت وحیات کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پیدا فرمایا زندگی اور موت کو۔ یعنی زندگی اور موت دونوں اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ‘ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جس کو چاہے موت سے ہمکنار فرما دے اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے ہر لمحہ میں اور اس کائنات کے ہر ہر خطے میں اس کی اس شان احیاء و اماتت کا ظہور ہمیشہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے اور موت اگرچہ نظر بظاہر ایک عدی چیز ہے مگر اس عدم و اعدام میں بھی ایک وجودی معنی پایا جاتا ہے کہ موت بہرحال ایک حقیقت اور اٹل حقیقت ہے ‘ اور ایسی اٹل کہ حق تعالیٰ کے کلام معجز نظام میں اس کو تعبیر بھی یقین کے لفظ سے فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے واعبد ربک حتی یاتیک الیقین (الحجر :99) ۔ اور ہر حقیقت اپنا ایک وجود بہرحال رکھتی ہے ‘ اور یوں بھی موت میں عدم محض نہیں ہوتا بلکہ اس میں انفصال و انتقال ہوتا ہے روح کا جسد عنصری سے ‘ اور عالم دنیا سے عالم عقبیٰ کی طرف ‘ اسی لئے اردو میں بھی موت کیلئے انتقال کا لفظ ہی مشہور و معورف اور رائج و مستعمل ہے ‘ جس کے معنی منتقل ہونے کے ‘ یعنی ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کے ہوتے ہیں ‘ سو زندگی و موت اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ‘ وہی زندگی بخشتا ہے اور اسی کی شان اور اسی کا کام ہے موت کی نیند سلادینا ‘ پس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں بزرگ نے اس لئے مار دیا کہ اس نے یہ کیا تھا وہ کیا تھا ‘ یا فلاں کو اس لئے زندہ کردیا کہ اس نے ایسا کیا تھا ‘ ویسا کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی سب باتیں خرافات اور نصوص قرآن و سنت کے معارض اور ان سے متصادم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ زندگی و موت سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ 4 نعمت زندگی سے اصل مطلوب و مقصود ابتلاء و آزمائش : سو سلسلہ موت وحیات سے متعلق اصل مقصود کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون سب سے اچھا عمل کرتا ہے۔ یعنی ابتلاء و آزمائش کا یہ طریقہ اختیار فرمایا تاکہ اس طرح وہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز کرے ‘ اور ہر ایک کی حقیقت کو آشکارا فرما دے ‘ ورنہ وہ عالم الغیب والشہادۃ جانتا تو سب کو ہے ‘ اور ازل سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے سبحانہ و تعالیٰ ‘ کہ وہ سب کا خالق ومالک ہے اور ہر چیز کو اس کے ظاہر اور باطن کے اعتبار سے جانتا ہے ‘ بھلا جو خالق ہے وہ اپنی مخلوق کو بھول جائے گا ‘ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس نے اس دنیا میں جس کو زندگی بخشی اسی لئے بخشی کہ کون اس کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون من مانی کرتا ہے ‘ اور اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے ‘ ہر شخص کی نیکی بدی کا حساب کتاب ہو ‘ اور وہ اپنے کئے کرائے کا پورا پور اصلہ اور بدلہ پائے ‘ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں ‘ اور اس طرح کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہو ‘ ورنہ یہ سب کچھ عبث قرار پائے گا جو کہ اس خالق حکیم کی حکمت کے خلاف ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ موت وحیات سے مقصود اس امتحان میں ہمیں کامیابی سے سرفراز فرما دے اور ویسی کامیابی سے جو تجھے پسند ہو۔ انت المستعان فی کل حین من الاحیان و بکل حال من الاحوال یا ذا الجلال والکرام۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ہمیشہ راہ حق و صواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے اور ہر قدم ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہ پر اٹھانا نصیب فرمائے ‘ آمین !۔ 5 اصل مقصود حسن عمل (ہے نہ کہ کثرت عمل): سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے سب کا اچھا عمل کس کا ہے ؟ کہ موت کے خؤف کے بغیر نفس کا بےلگام گھوڑا حق کے سامنے جھکنے اور دبنے کیلئے تیار ہی کہاں ہوتا ہے ‘ سو موت کا یقین اور اس کا استحضار ہی ہے جو انسان کے دل میں خوف خدا پیدا کرتا ہے ‘ اور اس کو آخرت کیلئے فکرمند بناتا ہے ‘ اسی لئے طبرانی وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : کفی بالموت واعظار و کفی بالیقین غنی۔ یعنی انسان کی نصیحت کیلئے موت کا واعظ ہی کافی ہے ‘ کہ موت کے تصور و استحضار سے انسان یہ سوچتا ہے کہ موت کی اس گھاٹی سے میں نے بھی بہرحال گزرنا ہے اور آگے حساب کتاب کیلئے اکیلے ہی پیش ہونا ہے ‘ جہاں اپنا عمل و کردار ہی کام آسکے گا ‘ اور ایمان و یقین کی دولت وہ سب سے بڑی دولت ہے جس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت و اہمیت ہی نہیں۔ بہرکیف موت ہی وہ سب سے بڑی اہم و اور مؤثر حقیقت ہے جس کی یاد اور استحضار کی بناء پر انسان اپنی آخرت کیلئے فکر مند ہوتا ہے ‘ اسی لئے حضرت ابوالدرداء ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں اگر نہ ہوتیں تو ابن آدم کبھی اپنے اکڑے ہوئے سر کو جھکانے کیلئے تیار ہی نہ ہوتا۔ لولا ثلث ما طاطأ ابن ادم رأسہ الفقر والمرض والموت وانہ مع ذالک لوثاب۔ یعنی وہ ان تین چیزوں کے بغیر سر کیا جھکاتا جب کہ اس کا حال یہ ہے کہ وہ ان عوارض اور زواجر کے باوجود خم ٹھوک سرکشی کرنے والا ہے ‘ (روح ‘ قرطبی وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء و شر بہرحال انسان کی اصل قدر و قیمت حسن عمل سے ہے اور حسن عمل موقوف ہے ایمان و یقین اور استحضار موت پر۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔ 6 اللہ تعالیٰ کی صفت عزت و مغفرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بڑا ہی زبردست انتہائی درگزر کرنے والا ہے اور نہایت زبردست اور غالب ہونے کے باوجود نہایت بخشنے والا اور درگزر کرنے والا ہونا اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ تبارک و تعالیٰ ‘ ورنہ دنیا میں تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جس کو کچھ قوت و جان مل گئی وہ دوسروں پر ظلم کرنا اور ان کو کچلنا دبانا اور زیر کرنا گویا اپنا حق اور تقاضا شان سمجھتا ہے ‘ والعیاذ باللہ العزیز بہرحال وہ چونکہ بڑا ہی زبردست اور سب پر غالب ہے ‘ اس لئے کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے کسی بھی طرح بچ نہیں سکتا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت ہی درگزر کرنے والا بھی ہے ‘ پس جو لوگ اپنی غلط اور باغیانہ روش کو ترک کرکے اس کے عفو و درگزر کے طالب بنیں گے ‘ وہ ان کو مغفرت و بخشش سے نوازے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ ایسا بڑا اور اس قدر غفور و رحیم ہے کہ اس کی رحمت و مغفرت سے سرفرازی کیلئے کسی اور کی سعی و سفارش اور کسی طرح کے وسیلے اور واسطے کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس نے اپنے بندوں کو اپنی مغفرت و بخشش سے نوازنے کیلئے اپنی کتاب حکیم میں جگہ جگہ ترغیب و ترہیب سے کام لیا ہے۔ چناچہ ایک اور مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " میرے بندوں کو خبر کردو کہ یقینا میں بڑا ہی بخشنے والا ‘ انتہائی مہربان ہوں اور یہ کہ میرا عذاب ہی وہ عذاب ہے جو کہ بڑا دردناک عذاب ہے۔ " ارشاد ہوتا ہے : " نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم " (الحجر :49 ۔ 50) ۔ اللہم فخذنا بنو اصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Top