Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بھلا وہ کون ہوسکتا ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ (خدائے رحمٰن) بند کرے اپنی روزی ؟ (ایسا کوئی بھی نہیں) مگر یہ لوگ (ہیں کہ اس سب کے باوجود) اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور (حق سے) گریز (و فرار) میں
26 : روزی کا معاملہ بھی اللہ ہی کے اختیار میں : سبحانۃ وتعالیٰ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رزق و روزی کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے سکے اگر وہ خدا رحمٰن اپنی روزی بند کر دے ؟ : یعنی اس کے اسباب و ذرائع کو کاٹ کر مثلاً آسمان سے بارش بند کر دے، ہاؤں کا چلنا روک لے، زمین سے اس کی اگانے کی قوت و خاصیت سلب کرلے، یا پانی کے سوتے بند کر دے، یا پانی کے ذخائر کو کھارا کر دے، یا سورج سے ملنے والی گرمی اس سے چھین لے، جس سے ان کی طرح طرح کی یہ فصلیں پکتی اور تیار ہوتی ہیں، وغیرہ وغیرہ سو اگر اس طرح کی کسی بھی صورت سے وہ خدائے رحمٰن تم لوگوں سے اپنی روزی بند کر دے تو پھر کون ایسا ہوسکتا ہے جو تمہیں روزی دے سکے ؟ سو ان باتوں کا تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ اور دل و جان سے اپنی اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ جھکا ہی رہے۔ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے اور اسی میں اس کے بندوں کا بھلا ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید علی مایحب ویرید۔ بہر کیف اس ارشاد سے اس مراہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا دیا گیا کہ ایسا کوئی بھی نہیں اور کوئی بھی نہیں ہوسکتا جو خدائے رحمان کے مقابلے میں کسی کو روزی دے سکے اور یہ امر ظاہر ہے کہ اس کا یارا کسی میں بھی نہیں ہوسکتا، کہ وہ اس وحدہ لاشریک کی اس طرح کی کسی بھی روک اور بندش کے آگے رکاوٹ بن سکے، تو پھر عبادت و بندگی کی کسی بھی شکل کا حقدار کوئی اور کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے، اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس خدائے قادر وقیوم سے بےنیازی برتنا اور اعراض و روگردانی سے کام لینا کس قدر سنگنی جرم ہے، والعیاذ باللہ۔ سو جن لوگوں نے اپنے خود ساختہ بتوں اور اپنی من گھڑت دیویوں دیوتاؤں اور فرضی سرکاروں وغیرہ کو اپنا روزی رساں سمجھ رکھا ہے وہ سب جھوٹے اور افترا پرواز ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار کے لئے کوئی وجہ نہیں نہ عقل سلم کے نزدیک اور نہ فطرت مستقم کے نزدیک مگر کافر و منکر لوگ اس کے باوجود آڑے ہوئے ہیں سرکشی اور گریز و فرار پر۔ اور بغیر کسی وجہ اور بدوں کسی عذر و معقولیت کے یہ لوگ یونہی کشی پر اڑے وہئے ہیں اور اپنی ہلاکت و تباہی کی اسی راہپر اندھے اور بہرے بن کر چلے جا رہے ہیں، نہ کسی طرح کا کوئی احساس ذمہ داری ہے اور نہ اپنے مآل و انجام کی کوئی فکر و پرواہ، والعیاذ باللہ جل و علا سو اگر یہ لوگ سوچنے سمجھنے والے ہوتے تو بات سمجھائی جاسکتی تھی، لیکن عناد اور ہٹ دھرمی کا کیا کیا جائے کہ میں نہ مانوں کا تو بہرحال کوئی علاج نہیں، سو اس ارشاد میں ان لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اوپر کئے گئے سوالات میں سے کسی کا جواب بھی یہ لوگ اثبات میں نہیں دے سکتے، ان کو تسلیم کئے بغیر ان کو چارہ نہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر اڑے ہوئے ہیں۔ سو ہٹ دھرمی اور محرومیوں کی محرومی اور فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Top