Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
(ان سے) کہو کہ وہ (معبود برحق) وہی ہے جس نے پیدا فرمایا تم سب کو (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے) اور اسی نے تمہیں کان بخشے آنکھیں عطا فرمائیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو،
29 ۔ قوائے علم و ادراک کی قدردانی کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے کان آنکھ اور دل و دماغ وغیرہ ذرائع علم و ادراک اور عظیم الشان نعمتوں کی قدردانی کی طرف توجہ مبذول کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ جو کہ علم و ادراک کے عظیم الشان ذرائع و وسائل ہیں، تاکہ ان کے ذریعے تم لوق حق اور حقیقت کی دولت سے بہرہ ور ہو سکو اور دین حق کو اپنا کر اور اپنے خالق ومالک کے حضور صدق دل سے جھک کر تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہو سکو، مگر تم لوگوں نے اس کے برعکس ان عظیم الشان نعمتوں اور ادرک حق و حقیقت کے لئے بخشے گئے ان ذرائع و وسائل کو بطن و فرج کی شہوات کی تحصیل و تکمیل میں لگا کر اپنے آپ کو شرف انسانیت سے گرا کر قعر مذلت میں ڈال دیا اور انکو حضیض حیوانیت کے حوالے کردیا اور اس طرح تم لوگ اپنے کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کی بناء پر خیر البریۃ (بہترین مخلوق) کی بجائے شرالبریۃ (بدترین مخلوق) بن کر رہ گئے اور ہمارے بخشے ہوئے ان ذرائع و وسائل کو تم لوگ ہمارے ہی خلاف استعمال کرنے کی جسارت تک پر اتر آئے، اور ہماری ایسی ایسی عظیم الشان عنایات کو بھول کر تم لوگ اپنی اس گمراہی کو صحیح اور درست ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی فلسفہ طرازیوں اور عقلی ڈھکو سلوں سے کام لینے لگے ہو، سو اس سے بڑھ کر ظلم اور بےانصافی و ناشکری اور کیا ہوسکتی ہے ؟ " وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ قال من یحییٰ العظام وہی رمیم " (یٰسین :78) سو اس ارشاد عظیم میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ اپنے خالق ومالک اور اس معبود برحق کو پہچاننے اور اس کی معرفت سے سرفرازی کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے لئے تم لوگ خود اپنے اندر جھانک کر دیکھ لو جیسا کہ دسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " وفی انفسکم افلا تبصرون " (الذاریات : 21) سو وہ معبود برحق وہی ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا، تمہیں کان بخشے، آنکھیں عطا فرمائیں اور تمہیں دل دیئے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز یہ بھی کہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں تم لوگوں نے بہرحال پوچھ ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ان السمع والبصر والقوادکل اولئک کان عنہ مسؤلا (بنی اسرائیل : 36) ۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید،
Top