Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 24
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْ : وہ اللہ وہ ذات ہے ذَرَاَكُمْ : جس نے پھیلایا تم کو فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
(ان سے مزید) کہو کہ وہ (وحدہ لاشریک) وہی ہے جس نے پھیلا دیا تم سب کو زمین میں (نہایت پُر حکمت طریقے سے) اور آخرکار اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو سمٹ کر
30 یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پھیلایا تم سب کو اے لوگو، زمین میں اور آخر کار تم سب کو اسی کی طرف جانا ہے اکٹھے ہو کر اور وہاں تم نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں، پس تم خود ہی دیکھ اور سوچ لو کہ اس یوم عظیم کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور وہاں کے لئے کیا کمایا اور جمع کیا ہے۔ اللھم وقفنا لماتحب وترضی و ماینفعنا فی ذالک الیوم العظیم الرھیب۔ سو جس طرح اس نے تم سب کو اپنی زمین میں پھیلایا، بکھیرا، اسی طرح وہ تم سب کو اکٹھا کر کے اپنے حضور لائے گا، کوئی چاہے یا نہ چاہے، مانے یا نہ مانے، اپنے وقت پر ایسے بہرحال ہو کر رہے گا، سو عقل و نقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اس یوم عظیم و رہب اور اس کے تقاضوں کو میشہ اپنے پیش نظر رکھے، وباللہ التوفیق سو اس ارشاد میں یوم حساب و معاد کی تذکیرو یاد دہانی بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک واقعاتی دلیل و شہادت بھی کہ حس نے تم سب کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس قدر پر حکمت طریقے سے اپنی اس زمین میں پھیلایا بکھیرا ہے وہی تم کو ایک دن اکٹھا کر کے اپنے حضور لائے گا۔ کیونکہ ایک کسان جب پوری محنت و مشقت اور نگرانی و حفاظت سے کھیتی تیار کرتا ہے تو پھر وقت آنے پر وہ اس کو اپنے کھلیان میں اکٹھا کرتا ہے اور پھر دانوں اور بھوسے کو الگ الگ کردیتا ہے۔ سو اسی طرح تمہارا خالق ومالک قیامت کے اس یوم حساب میں تم سب کو اٹکھا کرے گا اور پھر تم سب کی اس موقع پر چھانٹی کرے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ
Top