Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 27
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
سو جب یہ اس کو قریب دیکھیں گے تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جو اس کا انکار کرتے رہے تھے اور (اس وقت ان سے) کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم لوگ (دنیا میں) بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے
32 ۔ قیامت کے روز منکرین کے حال بد کی تصویر ذکر وبیان، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان کا حال بہت برا ہوگا۔ یعنی آخرت کے اس ہولناک عذاب کو جس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے تو اس وقت ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور حقیقت حال ان کے سامنے خود منکشف اور پوری طرح آشکارا ہوجائے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ویدالھم سیات ماعملوا وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون (الجاثیۃ :33) تب ان سے ان کی تقریع و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا، ھذا الذی کنتم بہ تدعون (یہی ہے وہ حقیقت جس کا تم لوگ بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے) سو تم اس کے لئے جلدی مت مچاؤ کہ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے، بلکہ اس کے لئے تیاری کی فکر و کوشش کرو، کہ اس کے لئے پھر تم کو کوئی موقع نہیں مل سکے گا۔ بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز لہروں سے ہو رہی ہوگی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اس عذاب کو قریب سے دیکھیں گے تو اس وقت بگڑ جائیں گے ان منکروں کے چہرے کو ان کے انکار کے علم الرم ان کو وہی کچھ دیکھنا پڑگیا جس کا وہ عمر بھر خم ٹھونک کر انکار کرتے رہے تھے۔ والعیاذ باللہ۔ سو آج تو یہ لوگ بڑے طنطنے اور تکبر کے ساتھ اس عذاب کے لانے اور دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن کل جس وقت وہ آپہنچے گا تو اس وقت ان کی یہ ساری شیخی ہرن ہوجائے گی، ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور انکا حال بہت برا ہوگا، سو ان پر کفر و انکار کی سیاہی اور انتہائی ہولناک ذلت و رسوائی چھائی ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ " (عبس : 40-39) والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے سرور و فتن سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ بہرحال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین 33 منکرین کی تذلیل و تحقیر کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو ان بدبختوں کی تذلیل و تحقیر کے اور منظر کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے یوں کہا جائے گا۔ یعنی ان کی تقریع و توبیخ اور تذلیل و تحقیر کے طور پر اور اس طرح ان کے احتراق اور ان کی جلن میں اور اضافہ ہوگا اور یہ دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ حسرت ویاس کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں گے، اور ان کا عذاب دو چند ہوجائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم سو اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم لوگ مطالبہ کیا کرتے تھے اور بار بار کہا کرتے تھے، تو اب تم اس کو دیکھتے ہی بدحواس کیوں ہوگئے ہو ؟ یہ تو تمہاری اپنی مانگی ہوئی مراد ہے سو اب تم اس کا مزہ چکھو۔ سو جس طرح ان بدختوں نے دنیا میں حق کا مذاق اڑایا تھا اور اللہ کے رسولوں اور ان کی دعوت کے ساتھ استہزاء کیا کرتے تھے اسی طرح ان کے ساتھ اس روز مذاق و استہزاء ہوگا جو کہ اصل میں ان کے اس مذاق و استہزاء کا صلہ و بدلہ اور اس کا طبعی نتیجہ ہوگا جو کشف حقائق کے اس جہان غیب میں ان کے سامنے اس طرح ظاہر ہوگا۔ قرآن حکیم نے اپنی رحمتوں بھری تعلیمات کے ذریعے اس سے اس طرح پیشگی خبر کردی تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے۔ بہرکیف اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے وز منکرین کے لئے ظاہری اور حسی عذاب کے ساتھ ساتھ باطنی اور معنوی عذاب بھی ہوگا اور وہ دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ چیز جس کا تم لوگ بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے اور تم تکذیب و استہزاء کے طور پر اس کے لئے جلدی مچایا کرتے تھے اور بار بار کہا کرتے تھے کہ آخر کب پوری ہوگی (قیامت کے بارے میں) تمہاری یہ دھمکی، اگر تم سچے ہو ! (اپنے دعوے میں) (متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین) سو اب تم لوگوں کو اپنی منہ مانگی مراد مل گئی، لہٰذا اب اس کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو کہ تم لوگوں نے اپنید نیاوی زندگی کو بغاوت و سرکشی اور کفر و انکار ہی کے ساتھ گزارا اور اسی کے ساتھ لوگوں نے دنیا سے کوچ کیا تو اب تم اپنے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتو اور بھگتتے ہی رہو۔ سو اس طرح وہ بدبخت ظاہری اور حسی آگ کے ساتھ ساتھ باطنی اور معنوی آگ میں بھی جلیں گے اور دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین
Top