Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
(ان سے) کہو کہ (نادانو ! ) ذرا یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ ہلاک کر دے مجھے اور ان سب کو بھی جو میرے ساتھ ہیں یا رحم فرما دے ہم سب پر تو (اس سے تمہیں کیا ملے گا ؟ تم تو یہ سوچو کہ) کون بچائے گا کافروں کو دردناک عذاب سے ؟
34 ۔ منکرین کے قلوب و ضمائر سے ایک سوال کا ذکر وبیان سو منکرین کو معاندانہ سوچ کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنانے کی دعوت کے طور پر ان کے قلوب و ضمائر سے یہ جھنجوڑنے والا سوال کیا گیا کہ تم لوگ سو چو کہ اگر اللہ ہلاک کر دے مجھے بھی ان میرے ساتھیوں کو بھی۔ جیسا کہ تم لوگ چاہتے ہو اور اس کے لئے تم طرح طرح کے حیلے حوالے اور جتن بھی کرتے ہو، ٹونے ٹوٹکے کرتے، جنتر منتر سے کام لیتے، بددعائیں کرتے، اور قتل تک کی سازشیں کرتے اور منصوبے بناتے ہو اور صاف کہتے بھی ہو کہ ہم تو ان کی موت کی انتظار میں ہیں (نتریص بہ ریب المنون) مگر تم لوگ ذرہ سوچو تو سہی اور یہ تو بتاؤ کہ اس سے آخر تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ کیا اس طرح تم لوگ اپنے کئے کرائے کے انجام سے بچ جاؤ گے ؟ جب نہیں اور ہرگز و یقیناً نہیں، تو پھر تمہارے لئے بہتری اور سلامتی کی راہ ایک اور صرف ایک ہے کہ تم اپنی فکر کرو اور ایمان و ہدایت کی دولت کو اپناؤ تاکہ اس طرح تم دائمی عذاب سے بچ جاؤ، اور اس کے لئے فرصت عمر کی اس نعمت کو غنیمت جانو جو آج تمہیں میسر ہے اور جو شدہ شدہ تمہارے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے، سو میں تو سراسر تمہاری بھلائی اور خیر خواہی میں لگا ہوں، اور تم ہو کہ میری بدخواہی کے در پے ہو، تم کیسے بےانصاف اور کس قدر ناشکرے لوگ ہو، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد سے ان لوگوں کو معاندانہ سوچ کی بجائے حقیقت پسندی کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو اس ارشاد میں یہ اہم اور اصولی ہدایت بھی ہے کہ انسان دوسروں کی برائی اور بدخواہی سے پہلے یہ سوچے کہ اس میں میرا کیا فائدہ اور مجھے اس سے کیا ملے گا ؟ اور اس مثبت اور اصولی سوچ کے نتیجے میں وہ بہت سی ہلاکتوں سے بچ جائے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویریدو ہوالہادی الی سواء السبیل 35 دوسروں کا برا چاہنے کی بجائے اپنے بھلے کی فکر کا درس : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ اگر اللہ ہلاک کر دے مجھے بھی اور ان سب کو بھی جو میرے ساتھ ہیں تو کون بچائے گا کافروں کو درد ناک عذاب سے ؟ جس سے انہوں نے اپنے کفر و انکار کی بناء پر بہرحال دوچار ہونا ہے، والعیاذ باللہ اعلظیم، سو فرض کرو کہ اگر ہمارے بارے میں تمہارا گمان ہی سچ ثابت ہوتا ہے اے منکرو، اور ہم گردش ایام کا شکار ہوجاتے ہیں جیسا کہ تمہاری خواہش اور چاہت ہے، تو تم یہ تو سوچو کہ آخر اس میں تمہارے لئے تسلی کا کیا پہلو ہے ؟ آخر تم کو اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کون بچا سکے گا ؟ اور اس کے عذاب سے تم کو کون پناہ دے سکے گا ؟ قیامت تو بہرحال ایک ہو کر رہنے والی چیز ہے، اس کے ہونی شدنی ہونے کے دلائل اٹل ہیں، سزا و جزا بہرحال ایک قطعی اور یقینی امر ہے، تو کافروں کو آخر اس درد ناک عذاب سے آخر کون بچائے گا ؟ سو تم لوگوں کو دوسروں کا برا چاہنے کی بجائے اپنے بھلے کی فکر کرنی چاہئے۔ یہی تقاضا ہے عقل و نقل کا اور اسی میں تمہارا بھلا ہے دنیا و آخرت میں جیسا کہ ابھی اوپر وال حاشیے میں بھی گزرا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ سبحانہ و تعالیٰ
Top