Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
(ان سے) کہو کہ وہ (رب) بڑا ہی مہربان ہے ہم اس پر ایمان لائے (سچے دل سے) اور ہم نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے (ہر حال میں) پس تم لوگوں کو عنقریب خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے وہ جو پڑا ہے کھلی گمراہی میں1
36 خدائے رحمان کی حمت کی تذکیر و یاد دہانی : سو اس سے خدائے مہربان اور اس کی رحمت بےنہایت کی تذکیرو یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا ہے ان سے کہو وہی ہے جو سب سے بڑا مہربان ہے۔ جس کی رحمتوں اور مہربانیوں کا بہرحال کوئی کنارہ نہیں اور وہ اپنی رحمت بےپایاں اور کرم بےنہایت سے یہی چاہتا ہے کہ اس کے بندے دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچ جائیں اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز ہوجائیں، سو اسی بناء پر اس نے اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے طرح طرح کے انتظام فرمائی اور اپنے انبیاء بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ یہ بےقدرا، اور ناشکرا انسان حق و ہدایت کی اس روشنی سیم نہ موڑ کر کفر و انکر، اور بغاوت و سرکشی کی راہ ہی کو اپناتا ہے، والعیاذ باللہ اور اس طرح یہ سعادت و کامرانی کی بجائے دائمی ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چلتا ہے والعیاذ باللہ اعلظیم، سو ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا کہ اس کا علم اللہ ہی کو ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہمارا رب بڑا ہی مہربان ہے، ہم اس پر ایمن لائے ہیں اس لئے ہمیں اس سے رحمت و عنایت ہی کی امید ہے کہ وہ اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت کی بناء پر ہم سے رحم و کرم ہی کا معاملہ فرمائے گا، سبحانہ و تعالیٰ کہ اس کی رحمت بےپایاں کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس کے اپنے بارے میں تعلیم و ہدایت بھی یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ان کے ظن و گمان کی مطابق معاملہ فرماتا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کا ارشاد و فرمان اس طرح وارد ہوا ہے انا عندظن عبدی بی یعنی میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اس لئے ہم نے اسی بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے بھروسہ کرنے والوں کو اس کے سوا باقی سب ادہام وطنوں ہیں والعیاد 37 خدائے رحمان پر بھروسے و اعتماد کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کو کہ وہی خدائے رحمان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے کہ بھروسہ و اعتماد اور توکل کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے جو کہ خالق ومالک ہے سب کا، اور تمام اسباب و وسائل کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ سو بڑے ہی خطا کار اور بھولے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اس خالق ومالک مختار سے منہ موڑ کر اس کی عاجز و بےبس مخلوق پر توکل و اعتماد کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ طرح طرح کی بےبنیاد اور وہمی چیزوں اور خود ساختہ و فرضی سرکاروں اور ہستیوں پر اعتماد کرتے اور انہی کی پوجا پاٹ کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی ہلاکت و بربادی اور تذلیل و تحقیر کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں والعیاذ باللہ، سو اس کی رحمت و عنایت اور اس پر اپنے ایمان و توکل کی بناء پر ہمیں اس کی بارگہ اقدس و اعلیٰ سے امید یہی ہے کہ وہ ہمارے حال پر رحم فرمائے گا، پھر بھی اگر تم لوگ اس معاملے میں ہم سے جھگڑتے ہو تو تم انتظار کرو، عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ہم یا تم ؟ بہرکیف اس ارشاد سے اعتماد علی اللہ کا درس دیا گیا ہے کہ بھروسہ اور توکل کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں جا بجا اور طرح طے سے توکل علی اللہ کا درس دیا کیا ہے مثلاً سورة فرقان میں ارشاد فرمایا گیا کہ بھروسہ ہمیشہ اسی ذات پر رکھو جو ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس پر کبھی متو نہیں آتی۔ " وتوکل علی الحیی الذی لایموت " (الفرقان) 38 منکرین کے لئے آخری جواب : سو اس سے منکرین کو آخری جواب دے دیا گیا کہ اگر تم لوگ پھر بھی نہیں مانتے تو تمہاری مرضی۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جئے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے ؟ : جب تم ابتئا و آزمائش کے اس جہاں سے گزر کر کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں پہنچو گے، کہ اس وقت ہر چیز اپنی اصلی شکل میں سامنے آجائے گی اور تم رہ رہ کر افسوس کرو گے کہ مینے راہ حق و صواب کو کیوں نہ اختیار کیا، مگر بےوقت کے اس افسوس سے تمہیں کوئی فائدہ نہ و گا، بجز اپنی یاس و حسرت میں اضافے کے، والعیاذ باللہ العظیم اس روز ظالم انسان مارے حسرت و افسوس کے اپن ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے، ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یالیتنی اتخذت مع الرسول سبیلاً (الفرقان :27) سو اس میں منکرین کے لئے تہدید و تخویف ہے کہ باز آجاؤ تم لوگ اپنے کفر و باطل سے قبل اس سے کہ فرصت خیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہونا پڑے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Top