Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
تم پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو تمہاری نگاہ تھکی ہاری ناکام ہو کر تمہاری طرف واپس لوٹ آئے گی
9 تمام حجرت کیلئے دعوت مکرر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو۔ تمہاری نگاہ تھکی ہاری ناکام ہو کر تمہاری طرف واپس لوٹے گی مگر تم کو اس میں کوئی خلل و قصور نظر نہیں آئے گا "۔ یعنی۔ " کرتین "۔ یہاں پر تنبیہہ کیلئے نہیں تکریر و تکثیر کیلئے ہے۔ جیسا کہ " لبیک " اور " سعدیک " وغیرہ میں ہے۔ (جامع ‘ محاسن ‘ مدارک وغیرہ سو اس ارشاد عالی میں اتمام حجت کیلئے پھر دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم ایک ہی مرتبہ نہیں ‘ بلکہ بار بار ناقدانہ نگاہ دوڑا کر دیکھ لو ‘ تمہاری نگاہ تھک ہار کر واپس آجائے گی مگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان تخلیق میں کوئی نقص یا خلل نہیں پاس کے گی ‘ سو جس خداوند قدوس کی قدرت و حکمت کے اس عظیم الشان شاہکار کو تم لوگ اپنے سروں کے اوپر اس طرح پھیلا ہوا دیکھتے ہو ‘ اس کیلئے آخری کوئی کام کس طرح اور کیونکر دشوار ہوسکتا ہے ؟ اور اس کیلئے تم لوگوں کو مر کھپ جانے کے بعد وبارہ اٹھ کھڑا کرنا اور سزا و جزا دینا اور تم سب کو تباہ کردینا والعیاذ باللہ آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو اس طرح صحیح زاویہ نگاہ سے غور و فکر کرکے انسان اپنے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی قدرت و حکمت بےپایاں سے واقف و آگاہ اور اس کی معرفت سے سرفراز سرشار ہوسکتا ہے اور پھر اپنے خالق ومالک کے حق عبادت و بندگی کی طرف متوجہ اور اس کیلئے فکر مند ہوسکتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کا جواب دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتا۔ سو اس کے نتیجے میں وہ دین حق کی آغوش میں آکر گرتا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپناکر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Top