Tafseer-e-Madani - Al-Mulk : 8
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
جبکہ وہ جوش مار رہی ہوگی شدت غضب سے وہ پھٹی جا رہی ہوگی جب بھی ڈالا جائے گا اس میں (کفار و منکرین) کا کوئی گروہ تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟
13 دوزخیوں کی تذلیل و تقبیح کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب بھی کسی گروہ کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ پوچھنا ان کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ تاکہ اس طرح یہ بدبخت دوزخ کی اس ہولناک آگ کے ساتھ ساتھ ‘ حسرت و یاس اور ندامت و افسوس کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں ‘ اور ان کا عذاب دوہرا ہوتا جائے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بھی اس اکرم الاکرمین کے کرم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے آخرت میں ملنے والے اس طرح کے ان ہولناک عذابوں کی خبر پیشگی اسی دنیا ہی میں اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ دے دی ‘ تاکہ جس نے سنبھلنا ہو وہ سنبھل جائے ‘ اور وہ کل یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے خبر نہ تھی ‘ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی غافل و بےفکر ہے ‘ وہ اس بارے میں سوچتی ہے نہ دعوت حق و ہدایت سے متعلق کسی بات پر کان دھرتی ہے۔ اندھی ‘ بہری بنی ہوئی ہے الا ماشاء اللہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کے کارندے ان دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ جو تمہیں اس ہولناک انجام سے ڈراتا اور خبردار کرتا ؟ تاکہ آج تمہیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا ‘ اور تم دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں اس یوم عظیم کیلئے تیاری کرلیتے ؟ جو تمہیں اصل میں دی ہی اس لئے گئی تھی کہ تم آخرت کیلئے کمائی کرو۔ سو دوزخ کے کارندوں کے اس سوال کے جواب میں وہ دوزخی ان سے کہیں گے اور اعتراف جرم کے طور پر کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں ہمارے پاس خبردار کرنے والے تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ اور ان کی دعوت کے جواب میں کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا۔ تم لوگ تو بہت بڑی گمراہی میں پڑے ہو ‘ سو اس طرح ان لوگوں کی آتش یاس و حسرت اور بھڑکے گی۔ مگر اس کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا اور ان کی رہائی اور رستگاری کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ سو رب رحمن کا یہ کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے اس یوم رہیب کے ان ہولناک احوال و اھوال سے اس قدر پیشگی اسی دنیا میں اور اس قدر صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا ‘ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں محو و مگن ہے ‘ وہ حق بات کو سننے اور ماننے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی۔ اور اس طرح وہ دارین کے اس ہولناک خسارے کی طرف بڑھتی چلی جارہی ہے جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو حق و ہدایت کی دعوت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی سے کام لینا خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Top