Tafseer-e-Madani - Al-Haaqqa : 15
فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ
فَيَوْمَئِذٍ : تو اس دن وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ : واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی
تو اس دن ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی
13 ہنگامہ قیامت کے وقوع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک ہی مرتبہ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر اور کوٹ کر چورا چورا کردیا جائے گا ایک ہی چوٹ میں۔ سو اس روز واقع ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی۔ اور پھٹ پڑے گا اس روز آسمان۔ یعنی مضبوط بندشوں والا یہ آسمان جو زمانہ ہائے دراز سے ایسا چلا آرہا ہے کہ اس میں نہ کوئی شگاف ہے نہ ھٹن ‘ اور جو بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ ‘ فتور و قصور کے اور بدوں کسی نقص و فساد کے قائم ہے اس روز یہ پھٹ پڑے گا کہ اس کے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا اور یہ حکم مانے گا اپنے رب کا ‘ اور اس کے آگے سر تسلیم کردے گا ‘ سبحانہ و تعالیٰ واذنت لربھا و حقت کہ وہ حکم مانے گا اپنے رب کا اور اس کے لائق بھی یہی ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے اپنے رب کے حکم و ارشاد کے آگے ‘ اور حکم و تصرف سب پر اسی خالق ومالک کا چلتا ہے کہ حاکم حقیقی بہرحال وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Top