Tafseer-e-Madani - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے تو دیکھو گے کہ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہیں اور ایک (بےمثل اور) عظیم الشان سلطنت
27 ۔ نعیم جنت کی عظمت و وسعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر تم جب دیکھو گے تو تم کو وہاں پر نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم الشان بادشاہی کی جلوہ گری نظر آئے گی اور ایسی عظیم الشان سلطنت و بادشاہی کہ اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر و مثال تو کیا ہوتی اس کا تصور ادراک بھی کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی عقل و فکر جتنا بھی زور لگائے گی وہ اس دنیا ہی کی کسی حکومت و بادشاہی کا تصور کرسکے گی اور بس جب کہ ہواں کی اس سلطنت و بادشاہی کا عالم یہ ہوگا جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے وارد و منقول ہے کہ دوزخ سے نکلنے والا آخری شخص جب جنت میں داخل ہوگا تو اس سے کہا جائے گا جاؤ تمہارے لئے پوری دنیا اور اس کے دس گنا کے برابر اور بھی نعمت اور بادشاہی ہے، نیز فرمایا کہ جنت میں ادنیٰ یعنی سب سے کم درجے کے شخص کی سلطنت و بادشاہی کا یہ عالم ہوگا کہ وہ ایک ہزار برس کی مسافت تک پھیلی ہوگی، مگر اس کے باوجود وہ اس کے آخری کنارے کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہوگا جس طرح کہ اس کے نزدیک کے حصے دیکھے گا، (روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، خازن، صفوہ اور مدارک وغیرہ) سبحان اللہ کیا کہنے اس واہب مطلق کی شان کرم اور اس کی بخشش وعطاء کے، اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے آمین۔
Top