Maarif-ul-Quran - Al-Israa : 87
وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا
وَاِذَا : اور جب مَسَّكُمُ : تمہیں چھوتی (پہنچتی) ہے الضُّرُّ : تکلیف فِي الْبَحْرِ : دریا میں ضَلَّ : گم ہوجاتے ہیں مَنْ : جو تَدْعُوْنَ : تم پکارتے تھے اِلَّآ اِيَّاهُ : اس کے سوا فَلَمَّا : پھر جب نَجّٰىكُمْ : وہ تمہیں بچا لایا اِلَى الْبَرّ : خشکی کی طرف اَعْرَضْتُمْ : تم پھرجاتے ہیں وَكَانَ : اور ہے الْاِنْسَانُ : انسان كَفُوْرًا : بڑا ناشکرا
مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اسکا بڑا فضل ہے۔
87: اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا (مگر یہ آپ کے رب کی رحمت ہے۔ بیشک اس کا فضل آپ پر بہت ہے) یعنی مگر آپ کا رب آپ رحمت کر کے آپ پر لوٹا دے۔ (وہ ایسا کرسکتا ہے) اس کی رحمت ہی ایک ایسی چیز ہے جس پر آپ اس کے واپس کرنے میں بھروسہ کرسکتے ہیں۔ نمبر 2۔ مستثنیٰ منقطع ہے۔ تو معنی یہ ہے لیکن یہ تیرے رب کی مہربانی ہے اس لئے اس کو بغیر لے جانے کے چھوڑ دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کے محفوظ باقی رہنے کا احسان ہے۔ اس کے بعد کہ اس نے اس کو اتارا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی۔
Top