Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 101
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ
فَاِذَا : پھر جب نُفِخَ : پھونکا جائے گا فِي الصُّوْرِ : صور میں فَلَآ اَنْسَابَ : تو نہ رشتے بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان يَوْمَئِذٍ : اس دن وَّلَا يَتَسَآءَلُوْنَ : اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے
نفخ صور اور قیامت کا منظر : 101: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ (جب صور میں پھونک ماردی جائے گی) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثانیہ یعنی نفخ بعث ہے یہی صحیح ہے : فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ (پس ان کے درمیان باہمی رشتہ داریاں اس دن نہ رہیں گی) قراءت : یومَئِذ یہ ادغام کے ساتھ ابوبکر نے پڑھا ہے۔ کیونکہ اجتماع مثلین ہے۔ اگرچہ یہ دو کلمے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کے درمیان انقطاع اسی وقت ہی واقع ہوجائے گا جبکہ ان کی دو جماعتیں نمبر 1۔ ثواب والے نمبر 2۔ سزا والے ہوجائیں گی اور ان کے درمیان صرف نسبی تعلق سے ملاپ کی صورت رہ جائے گی جبکہ وہ : یوم یفر المرئُ من اخیہ وامہٖ وابیہ وصاحبتہٖ وبنیہِ ] عبس : 36، 34[ وہ صرف اعمال کی بنیادی پر رہ جائے گی۔ وَّلَا یَتَسَآ ئَ لُوْنَ (وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال نہ کریں گے) یعنی رشتہ داری اور خاندان کا سوال نہ کریں گے جیسا کہ وہ دنیا میں سوال کرتے تھے کیونکہ ہر ایک اپنی حالت میں اس قدر مگن ہوگا کہ ساتھی کے متعلق پوچھنے سے بےنیاز ہوگا۔ ایک حل : اس آیت میں لا یتساء لون آرہا ہے۔ اور دوسری آیت : واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون ] الصافات : 27[ میں سوال کا تذکرہ موجود ہے۔ حقیقت میں ان کے مابین کوئی تناقض نہیں کیونکہ قیامت کے طویل دن میں بہت سے مواقع پیش آئیں گے۔ بعض مقامات پر خوف شدید ہونے کی وجہ سے باہمی سوال نہ کرسکیں گے۔ اور بعض مواقع میں افاقہ پاکر ایک دوسرے سے پوچھ لیں گے۔
Top